تحریر؛ ثناء سید بیٹیاں رحمت یا زخمت
تحریر؛ ثناء سید
بیٹیاں سب کے مقدر میں کہاں ہوتی ہے۔
گھر جو خدا کو پسند ہوتا وہاں ہوتی ہے۔
بیٹیاں رحمت کا دروازہ،بخشش کا زریعہ اور جہنم کی ڈھال ہوتی ہیں۔
قرآن حدیث میں بیٹیوں کو بہت فضیلت حاصل ہیں۔
ارشاد ہے کہ بیٹیاں بڑی نعمت ہیں،کیوں کہ ان کی پرورش پہ جنت کا وعدہ ہے۔
آپﷺ نے فرمایا کہ جس نے تین بٹیوں کی پرورش کی اس کو جنت کی بشارت ہے۔ایک آدمی آپﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہﷺ میری ایک بیٹی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تجھے بھی جنت کی بشارت ہے۔آج کہ دور میں ہمیں پتا چلے کے بیٹی ہوئی ہے تو ہم لوگ غمگین ہو جاتے ہیں۔ حالاں کہ یہ ایک ایسی نعمت ہے جس پہ جنت کی بشارت ہے۔ بیٹی کی گھر میں موجودگی رنگ اور خوشبو بھر دیتی ہے۔شادی سے پہلے گھر کی خوشیاں دوبالا کرتی ہے۔اداسی میں آپ کو ہنساتی ہے۔ روتے ہوئے آپ کے آنسو پونچھتی ہے۔ غرض ہر اچھے برے حالات میں اپنے والدین کے ساتھ کھڑی ہوتیں ہیں۔مگر آج کے معاشرے میں بیٹی ایک بھوج بن کر رہ گئی ہے۔میرے اپنے کانوں سنے الفاظ ہے کہ ایک باپ اپنی بیٹی سے کہہ رہا ہے کہ تم میرے کھاتے میں نہیں آتی،(مطلب یہ ہو گیا کہ تم میری بیٹی نہیں ہو)،میں تمھیں بیچ آوٗں گا (مطلب بیٹی کے احراجات برداشت نہیں کر پاتے آج کے باپ تو بیچنے کی دھمکی) اوریہ کہ یہ بیٹیاں کوئی نفاء نہیں دیتی (مطلب آج کے باپ کے لئے جنت کوئی اہمیت نہیں رکھتی)سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ باپ بھی کسی کی بیٹی کی گود سے ہی جنماہے۔
جتنی فضیلت قرآن وحدیث کی روشنی میں بیٹیوں کو حاصل ہے اتنی تو بیٹوں کو بھی نہیں ہے۔ خود نبی کریمﷺ ایک بیٹی کے باپ ہے۔ اسلام میں بیٹیوں کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ لحاظا بیٹیوں کی پیدائش پہ خوش ہونا چاہئے نہ کے دوکھی اور بیٹیوں کو خقیر نہیں سمجھنا چاہئے کیوں کہ بیٹے بیٹیاں لاتیں ہیں اور بیٹیاں بیٹے مطلب دامادلاتیں ہیں۔ہمیں اپنی سوچ کو وسعی کرنے کی ضرورت آج بھی ہیں ورنہ ہم میں اور غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔
تحریر؛ ثناء سید بیٹیاں رحمت یا زخمت
Reviewed by Voice of Taxila News
on
11:30:00
Rating:
Reviewed by Voice of Taxila News
on
11:30:00
Rating:

No comments: