Top Ad unit 728 × 90

Smiley face

Latest

recent

خصوصی کالم : زندہ دلان اوکاڑاکی محبتوں کو سلام

ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے او ر یہ ارض پاک27رمضان المبارک کی با برکت رات کو وجود میں آئی ۔ یہ خطہ ارضی قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ دنیا کے خوبصورت ممالک میں اس کا شمار ہوتا ہے ۔ اس کے اندر جہاں اونچی فلک شگاف چوٹیاں ہیں وہی پہ برفانی پہاڑوں سے اٹا ہواہمالیہ کا سلسلہ کوۂ ہندو کش، کوۂ قراقرام اور کوۂ نمک جیسے پہاڑوں سے بھی یہ دھرتی قدرت نے لیس کی ہوئی ہے۔ بل کھاتے ہوئے دریاؤں کی خوبصورت سر زمین اور سبزہ کی قالینوں سے مزین لہلاتے ہوئے کھیت جہاں موجود ہیں وہی پہ چشموں آبشارو ں نے اس کی خوبصورتی کو مزید حسن سے نواز رکھا ہے ۔ گہرا سمندر جہاں پہ ہے وہی پہ ریگستانی علاقہ کی بھی قدرت نے کمی نہیں چھوڑی جس طرح سے یہ وطن خوبصورت ہے اسی طرح سے صوبہ پنجاب کا خوبصورت زرعی علاقہ جو ایک سرائے سے شروع ہو کرآج کم وبیش 32لاکھ آبادی کا ضلع جس نے ’’ ادکاں نامی،،درخت کے نسبتی نام سے ترقی کرتے ہوئے آج اوکاڑاکا روپ دھار رکھار ہے۔ 13اگست 2017کو جرمنی میں مقیم شاعرہ ناول نگارثناء احمد کی کتاب ’’ کانچ کی تتلی ،،  کی تقریب رونمائی کا اہتمام ممتازصحافی و کالم نگار اختشام جمیل شامی مرکزی چئیر مین فیڈرل کونسل آف کالمسٹ نے مقامی ہوٹل کے خوبصورت ہال میں کیا تھا ۔ اور میرے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات تھی کہ راقم کو بحیثیت مہمان مقرر مدعو کر رکھا تھا دی فاؤنڈرز سیکنڈری سکول احاطہ ٹیکسلا کی سابق معلمہ محترمہ نزہت اعظم اور ان کے شوہر بھائی محمد اعظم نے بھی طویل عرصے سے اوکاڑاآنے کی دعوت دے رکھی تھی لہذا موقع غنیمت جانتے ہوئے ممتاز صحافی آفتاب اقبال ، جنید احمد ، ادیب ظفر اقبال ، شاعر اقبال صلاح الدین اور پنجابی کے معروف شاعر بابو رجب علی اور تاریخ اوکاڑہ کے مصنف محمد حنیف جیسے درد دل رکھنے والے اور اس وطن کی مٹی کے قرض ادا کرنے والے سینئر لکھاریوں کی سرزمین پر طویل سفر کے بعد ہمراہی علام الدین اور امجد محمودکے اوکاڑاشہر پہنچے راؤ فرقان محی الدین ، اختشام جمیل شامی اور دیگر حضرات نے نہائت ہی والہانہ انداز میں خوش آمدید کہا سفر کی ساری تھکن ان کی چاہت اور محبت کی نذر ہو گئی ۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول ﷺ سے ہواپریس کلب اوکاڑہ کے چئیر مین چوہدری منیر صدرات کے فرائض سر انجام دے رہے تھے میزبان تقریب احتشام جمیل شامی نے استقبالیہ کلمات اور تقریب کی غرض و غائیت اور حاضرین سے ہمارا تعارف کروایا اور یہ بھی بتایا کہ مصنفہ کی اس سے قبل لکھی گئی شاعری کی کتابیں ’’بھربھری مٹی ،، ’’ دکھ میرے اثاثہ ،، کی تقریب رونمائی کا اعزاز بھی ان ہی کو حاصل ہے او رآج تیسری کتاب کی تقریب پزیرائی بھی اہلیان اوکاڑاکے حصہ میں آئی ہے مقررین جن میں عابدحسین مغل ، محمد امین انجم ، حکیم راؤ کامران ، ڈاکٹر ندیم اسلم ، زاہد اقبال ، حاجی غلام مصطفی مغل، محترمہ سلمی رباب اور محترمہ شازیہ اسلم، بزرگ شاعر اللہ دتہ عاصی ، اکرم دانش، حید ر علی ساحر نے ناول ’’کانچ کی تتلی ،، کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وطن عزیز سے دور جرمنی جیسے مغرب زدہ معاشرے میں رہتے ہوئے مصنفہ نے اپنی مٹی کے درد کو محسوس کرتے ہوئے مشرقی اقدار و روایات کی پاس داری کرتے ہوئے اپنے معاشرے کی پسی ہوئیخواتین کی حقیقی تصویر پیش کرنے پر ثناء احمد کو مبارکبادی جاتی ہے ۔ اور یہناول یقیناًہوا کا تازہ جھونکا ہے جس سے استفادہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔تقریب میں اوکاڑاکی علمی و ادبی ذوق رکھنے والی خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد موجو د تھی واہ چھاؤنی جسے پاکستان کا تعلیمی شہر کہتے ہیں اس شہر کی ادبی ذوق رکھنے والی خواتین کا فنون لطیفہ کی تقاریب میں عدم شرکت او رعدم دلچسپی واہ کے ادبی حلقو ں کے ذمہ داران کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ یہاں کی خواتین ادبی محفلوں میں اپنی شرکت کو کو گھٹن زد ہ ماحول قرار دے کر راہ فرارکیوں اختیار کرتی ہیں ۔ اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ راقم نے اس خوبصورت تقریب کے انعقاد اور والہانہ استقبا ل پر منتظمین تقریب اور اہلیان اوکاڑا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج مجھے اوکاڑا کے قلم قبیلہ کے سر خیل اور ممتاز لکھاریوں سے مل کریوں محسوس ہو رہا ہے کہ اوکاڑا میرا اپنا شہر ہے اور یہاں کے باسیوں کی چاہت و الفت سے یہ گماں ہوتا ہے کہ میں واہ کینٹ یا ٹیکسلا کی کسی تقریب میں حاضرین سے مخاطب ہوں ثناء احمد کی قلمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکے مصنفہ نے معاشرتی برائیوں کا خاتمہ بالخصوص حوا کی بیٹی کا کھویا ہوا تشخص واپس دلانے میں اپنی قلمی جنگ کے ذریعے معاشرتی ناسوروں کے کالے کرتوتوں کو جس طرح سے عیاں کیا ہے ان کے جرات مندانہ موقف کو اسی وقت طاقت مل سکتی ہے کہ ان کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے اپنے قلم و عمل کے ذریعے ماں، بہن اور بیٹی کے پاکیزہرشتو ں کے تقدس کو مجروحہونے کے بجائے پاکیزگی کے حصار میں خوشگوار ماحول فراہم کر کے اپنا مذہبی وملی فریضہ کی ادائیگی کریں یہی ثناء احمد کی پکار ہے ۔ صاحب شام ثناء احمد نے کہاکہ میں اپنی بساط کے مطابق جرمنی میں رہتے ہوئے اپنی مٹی کا درد محسوس کرتے ہوئے ادنٰی سی کوشش کرتی ہوں آپ حضرات کے تعاون اور حوصلہ افزائی سے مجھے مزیدلکھنے اور اپنے معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی محرومیوں کے ازالے کے لیے لکھنے کی مزید جرأت پیدا ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا جرمنی میں رہنے کے باوجود میرا دل اپنے وطن کے ساتھ دھڑکتا ہے ایسا کیو ں نہ ہو کیونکہ یہ پاکستان میری ماں دھرتی ہے اور ماں دھرتی کا قرض ہم ساری زندگی نہیں ادا کر سکتے صدر تقریب و چئیر مین پریس کلب چوہدری منیر نے اپنے صدارتی خطا ب میں کہا کہ وطن عزیز کے لیے اہلیان اوکاڑہ نے ہمیشہ اپنے اپنے میدان میں گراں قدر خدمات سر انجام دیں ہیں ۔ صحافت ہو یا سیاست ، ذوق شہادت ہو یا تجارت ، علم دین ہو عصری علوم ہوں اوکاڑوی فرزندوں نے ہمیشہ وطن عزیز کے پرچم کو سربلند رکھا ہے انہوں نے کہا اوکاڑاعلمی ، ادبی ، سماجی اور مذہبی شخصیات کا مسکن ہے خطیب پاکستان مولانا محمد شفیع اوکاڑوی مولانا محمد لکھوی کے بیٹے معین الدین لکھوی (ستارہ امتیاز ) کا شہر ہے ۔ راؤ سکند ر اقبال ، میاں منظور وٹو ، میاں محمد زمان،میاں یاور زمان، سید صمصام بخاری ، رانا اکرام ربانی اور اشرف خان سوھنا کے دیس میں آپ ہمارے مہمان کی حیثیت سے بیٹھے ہیں یہ وہ شہر ہے جس کے سپوت نہ صرف علم و ادب سے دلی لگاؤ رکھتے ہیں بلکہ ملکی ترقی کے لیے اوکاڑا کے باسیوں کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔تحریک آزادی ہند کے لیے یہاں کے جری سپو ت کسی سے پیچھے نہیں رہے احمد خان کھرل پنجاب کی دھرتی کا وہ بہادربیٹا ہے جس نے رنجیت سنگھ کے بعد انگریز کا اس علاقہ میں راستہ روکا اوکاڑا کے گاؤں ’’ جھامرے،، سے تعلق رکھنے والے اس ’’راٹھ،، نے مقامی قبائل کو ایک پلیٹ فارم پہ اکٹھا کر کے انگریز کے خلاف بغاوت پر آمادگی کے جرم میں 2ستمبر 1857کو شہادت کا اعزاز حاصل کر کے قیامت پاکستان کی راہ ہموار کرنے میں خشت اول رکھنے والوں میں اپنا نام شامل کر کے اوکاڑہ کو ہمیشہ کے لیے زندہ و تابندہ کر گیاچوہدری منیر نے کہاکہ روزنامہ نوائے وقت کے بانیان حمید نظامی مرحوم او رمجید نظامی مرحوم کی صحافتی خدمات بھی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں اوکاڑا میں نوائے وقتیوں کی ایک بڑی تعداد سے عیاں ہوتا ہے کہ یہاں کے شہری نظریاتی مذہبی وملی شعور سے پوری طرح آگاہی رکھتے ہیں اختتام تقریب پر مصنفہ نے اوکاڑاکی ممتاز ادبی شخصیات میں اپنی کتاب تقسیم کی تحائف کے تبادلے او ر دعائے خیر کے ساتھ یہ خوبصورت ادبی تقریب اختتام کو پہنچی ۔اوکاڑہ کے لوگ وسیع القلب، شریف النفس ، ادب نواز ہی نہیں بلکہ مہمان نوازی میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں اہلیان اوکاڑاآپ کی محبتوں کو سلام ۔اوکاڑازندہ باد پاکستان پائندہ باد
خصوصی کالم : زندہ دلان اوکاڑاکی محبتوں کو سلام Reviewed by Voice of Taxila News on 14:01:00 Rating: 5

No comments:

All Rights Reserved by Voice of Taxila © 2014 - 2015
Powered By Blogger, Shared by Free WP Themes

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.