Top Ad unit 728 × 90

Smiley face

Latest

recent

شیخ رشید احمد کی کھری کھری باتیں

 شیخ رشید احمد کی کھری کھری باتیں
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بجانب شمال مغرب قدیم شہر ٹیکسلا آبادہے اس تاریخی شہر کو 326قبل مسیح میں سکندر اعظم نے فتح کر کے اس پر اپنا قبضہ جما لیا تھا اور وہ پانچ دن اس عظیم تاریخی شہر میں ٹھہرا۔یہیں پہ راجا امبھی نے سکندر اعظم کی اطاعت قبول کی۔جس کے بعد سکندر اعظم راجہ پورس سے لڑنے کے لیے جہلم کے کنارے پر پہنچا۔ باختر کے یونانی حکمرانوں دلیمریس نے 190قبل مسیح گندھارا کی دھرتی کو فتح کر کے ٹیکسلا کو اپنا پا یہ تخت بنایا۔مہاراجہ اشوک اعظم کے عہد میں اس شہر کی رونق پورے عروج پہ تھی۔اور بدھ مت کی تعلیم کا مرکز جیولین یونیورسٹی سے دنیا بھر کے طلباء آکر تعلیم حاصل کرتے تھے۔ساتویں صدی عیسوی میں مشہور چینی سیاح ’’ہیون سانگ‘‘یہاں آیا تھا اُس نے اپنے سفر نامے میں اس شہر کی عظمت و شوکت کا خوبصورت الفاظ میں ذکر کیا ہے۔ٹیکسلا میں گوتھک سٹائل کا ایک عجائب گھر ہے جس میں پانچویں صدی قبل مسیح کے گندھارا آرٹ کے نمونے ،دس ہزار سکے (جن میں بعض یونانی دور کے ہیں )زیورات،ظروف اور دیگر نواردات رکھے ہوئے ہیں۔ اس شہر کے کئی مقامات کو 1980؁ء میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔پتھر کے مجسمے ، مورتیاں ،لنگریاں اور قبروں کے کتبے ہاتھ سے آج بھی یہاں کے ہنر مند اور دست کار اتنی خوبصورتی سے تیار کرتے ہیں جس کا پوری دنیا میں کوئی ثانی نہیں اسی لیے تو ٹیکسلا کو سنگتراشوں کا دیس بھی کہا جاتا ہے آج پھر یہ قدیم تاریخی شہر ترقی کی راہ پہ گامزن ہے۔ یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ،ہائی ٹیک یونیورسٹی ،ہائی ٹیک میڈیکل کالج بے شمار سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے شہر کی وہ عظیم درسگاہیں ہیں جن سے ہزاروں طلباء اپنے بہتر مستقبل کے لئے زیر تعلیم ہیں ۔پی ایم او، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا،ہیوی میکینکل کمپلیکس جیسے قومی ترقی کے اداروں میں ہزاروں ملازمین دفاع وطن کے لیے جہاں کوشاں ہیں وہاں پہ ٹیکسلا سے ملحقہ بستی واہ چھاؤنی کے باسیوں نے اپنی علمی ،ادبی اور دفاعی خدمات کے اعتبار سے ٹیکسلا کے تاریخی حسن اور قد کاٹھ میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے واہ چھاؤنی جو کہ تعلیمی اعتبار سے پاکستان کا ایجوکیشن سٹی کہلاتا ہے ٹیکسلا کی دھرتی کے سنوار کے لیے مختلف علمی ،ادبی ،سماجی اور صحافتی تنظیمیں بھی اس شہر کے روشن کردار کو عیاں کرنے کے لیے اپنے تئیں مصروف ِعمل ہیں۔ راقم کے شاگرد رشید اور متحرک نوجوان صحافی رشید مغل نے تحصیل یونین آف جرنلسٹ کے پلیٹ فارم سے گذشتہ 3سال سے ٹیکسلا کے وقار کو دوام بخشنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی کی نمایا ں شخصیات میں ایوارڈز کی تقسیم کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے تاکہ با ہمت اور قومی جذبے سے سرشار لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی ہو سکے اور نئے ٹیلنٹ اجاگر کیا جا سکے اور نوجوانوں میں جذبہ حب الوطنی کو ابھارنے کے لیے اُن کہ یہ کا وش لائق صد تحسین ہے امسال بھی ’’ٹیک شیلہ ایوارڈز‘‘ کے نام سے اُنھوں نے ایک خوبصورت تقریب کا انعقاد کیا عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور فرزند ِ پاکستان شیخ رشید احمد نے بطور مہمانِ گرامی کی حیثیت سے تقریب میں شرکت کی۔اس خوبصورت تقریب میں علم و ادب ،کھیل، صحافت ،ثقافت ،طب،تعلیم اور فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کو ایوارڈز سے نوازا گیا۔تقریب میں نہ صرف واہ ٹیکسلا بلکہ ہری پور،اٹک ،ایبٹ آباد ،اسلام آباد اور راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی قد آور شخصیات کی شرکت نے اس تقریب کو با وقار بنا دیا۔ تقریب کے احسن انعقاد میں تحصیل یونین آف جرنلٹ ٹیکسلا کے اراکین کی محنت جہاں شامل تھی وہاں پہ ممتاز علمی شخصیت پروفیسر طاہر محمود خان ، پریس کلب ٹیکسلا کے صدر سید مشتاق حسین نقوی ،نوجوان صحافی سید رضوان حیدر ،ماہرین تعلیم ملک مدثر اقبال اور راجہ طارق محمود کا کردار بھی نمایاں رہا۔مہمانِ خصوصی فرزندِ پاکستان شیخ رشید احمد نے مختصر اور جامع خطاب میں ٹیکسلا کی تاریخی اہمیت پہ اتنے لطیف پیرائے میں گفتگو فرمائی حاضرین شیخ رشید احمد کے ہمراہ صدیوں قبل آباد شہر ٹیکسلا کے سرکپ ،بھڑماونڈ،موہڑہ مرادو،جولیاں ،بھلڑ توپ سٹوپہ،پنڈ گاکھڑااور پنج کھٹہ کے تاریخی پسِ منظر سے روشناسی دیتے ہوئے ٹیکسلا کی  تہذیب و ثقافت سے روشناس کرایا۔اُنھوں نے سر جان مارشل کے حوالہ سے بھی گفتگو فرمائی ۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ ٹیکسلا میرا اپنا شہر اور میرا اپنا گھر ہے  میرا بچپن بھی ٹیکسلا کی گلیوں ،محلوں میں نہ صرف گزرا ہے بلکہ وہ ریشم(سلک) کے کاروبار سے بھی اسی علاقہ میں منسلک رہے ہیں ۔اُنھوں نے کہا کہ جس طرح آج آکسفورڈ ، ہارورڈ،کیمرج کا علمی راج ہے زمانہ قدیم میں اسی طرح جیولین یونیورسٹی ٹیکسلا سے علم کے متلاشی دنیا بھر سے آکر اپنی پیاس بجھاتے تھے اُنھوں نے ٹیکسلا کے لوگوں کی ذہانت و فطانت ،وفا شعاری ،مہمان نوازی ،اعلیٰ ظرفی اور جرأت و بہادری کو سلام پیش کیا ۔شیخ رشید احمد نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان اپنی تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہا ہے تمام اداروں کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے کھربوں روپے قومی دولت لُوٹنے والے لٹیروں کی پچاس پچاس لاکھ میں ضمانتیں ہو رہی ہیں یہ بغیر کسی ڈیل کے ممکن نہیں آج اس ڈیل کے حمام میں سبھی ننگے ہیں قومی دولت لُوٹنے والے سبھی  اکھٹے ہیں اور بد قسمتی سے لُٹنے والے آپس میں دست وگریباں ہیں ۔قوم کو تقسیم در تقسیم کیا جا رہا ہے سادہ لوح پاکستانی  قوم جس نسخے سے بیمار ہوتی ہے پھر علاج کے لیے دوبارہ اُن ہی بد بخت ڈاکٹرز اور حکیموں کے پاس شفاء کے لیے جاتی ہیں اُنھوں نے کہا کہ میں کوئی ’’جوتشی‘‘ تو نہیں لیکن قوم کو بتا رہا ہوں کہ یہ مہینہ ملکی سیاست میں بہت ہی اہمیت کا حامل ہے 15اپریل2017تک یا تو حکمرانوں کا جنازہ نکل جائے گا یا پھر قانون کا۔ ایک اندھے کو بھی نظر آرہا ہے کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ ڈیل پہ ڈیل ہو رہی ہے ۔شیخ رشید احمد کی سچی اور کھری کھری باتوں نے  جہاں حکمرانوں کو خوب لتاڑاوہاں پہ حاضرین کو بھی خوب جنجھوڑا ، حب الوطنی ،فرض شناسی ،دیانتداری ،اخوت ،بھائی چارہ اور قومی یکجہتی کا خوبصورت پیغام اُن کی تقریر کا خاصہ تھا۔ قارئین کرام!قیام ِ پاکستان سے لے کر اب تک ہماری جمہوری و فوجی حکومتیں خلوص نیت کے ساتھ صرف و صرف فروغ ِ تعلیم کے لیے کوشیش کرتی قوم خواندہ ہوتی اور شعوری بے داری کے ذریعے وہ ایسے لوگوں کا انتخاب کر کے اپنی  اور ملکی قسمت  کی تقدیر سنوارنے کے لیے صاحب کردار اور خوف ِ خدا رکھنے والے لوگوں کا انتخاب کرتی تو آج ہمارا شمار بھی دنیا کی با وقا ر ،با کردار ، غیور اور ترقی یافتہ قوموں میں ہوتا۔خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق ؓ کا یہ خوبصورت قول نہ صرف  ہمارے حکمرانوں ،پاکستانی قوم بلکہ پوری اُمہ کے لیے راہنمائی کا باعث ہے ’’خدا سے صرف اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو اُس کی عظمت کا علم رکھتے ہیں ‘‘۔اللہ کرے نہ صرف ہمارے حکمرانوں بلکہ پوری پاکستانی قوم کے اندر خوف ِ خدا کا احساس پیدا ہو جائے تو آج بھی ہم تنزلی کی بجائے ترقی کی راہ پہ گامزن ہو سکتے ہیں ۔ رشید مغل اور اُن کی تنظیم مبارک باد کی مستحق ہے جو ٹیکسلا کی دھرتی کے ایسے سپوتوں کی حوصلی افزائی کرتے چلے آرہے ہیں جو اس شہر کی گم گشتہ روایات کو زندہ جاوید رکھنے کے لیے اپنا خون جگر صرف کر کے وطن عزیز کو کامران و تابناک بنانے میں اپنے حصے کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں ۔
شیخ رشید احمد کی کھری کھری باتیں Reviewed by Voice of Taxila News on 01:07:00 Rating: 5

No comments:

All Rights Reserved by Voice of Taxila © 2014 - 2015
Powered By Blogger, Shared by Free WP Themes

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.