Top Ad unit 728 × 90

Smiley face

Latest

recent

خصوصی کالم : استاد تو ہر دور میں انمول رہا ہے ، عطا الرحمان چوہدری


 دِل کی باتیں     ۔۔۔۔۔                     استاد  تو ہر دور میں انمول رہا ہے 
       درس گاہوں اور اساتذہ کا آپس میں چولی  دامن کا ساتھ ہے اور معاشرتی بگاڑ سنوار میں یہ لازم و ملزوم ہیں ۔استاد کا تو ویسے بھی اللہ رب العزت اور پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد مصطفےﷺ نے جو مقام و مرتبہ دے رکھا ہے اس سے انکار ممکن ہی نہیں ۔سکول و استاد معاشرتی ترقی میں نہ صرف ایک ادارے بلکہ ریڑھ کی ھڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ نرسری اور کارخانے کی مانند ہوتے ہیں جوبچے آج درسگاہوں کا رخ کر رہے ہیں استاد کی شفقت و محبت اور غیر جانبدار ی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے چھوٹے چھوٹے معصوم طلباء کے اذہان و قلوب میں جو کچھ بچپن میں سمویا  جاتا ہے اسکے اثرات ساری زندگی اْن کی شخصیت سے عیاں ہوتے ہیں ۔ اگرچہ آج کے موجودہ مشینی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں اساتذہ کی اکثریت اپنے طلباء کو اخلاقیات ،بھائی چارہ ،رہن سہن کے پاکیزہ طور واطوار ،ہمدردی ، اخوت ،دیانت و صداقت اور شفافیت سے لبریز زندگی گزارنے کے اصولوں کی تربیت کرنے سے عاری ہے ۔ ماضی کے جھروکوںپر نظر ڈالیں تو ایک وہ وقت تھا جب ہادی برحق حضرت محمد مصطفےﷺ  "اصحاب صفہـ ـ " کو درس دیا کرتے تھے تو ان کے سروں پر پرندے آکر بیٹھ جاتے اور وہ اس نیت سے سر نہیں ہلاتے تھے کہیں گستاخی اور بے ادبی نہ ہو جائے اور پورے انہماک سے نبی کریم رئوف رحیم ﷺ کا درس سنا کرتے تھے اور پھر ان ہی شاگردوں میں سے حضرت ابو بکرصدیقؓ ،  حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنی ذوالنورینؓ،اور حضرت علی شیرخداؓ،   کے خطابات سے ہمکنار ہوئے اور جھنوں نے اپنے معلم اعظم ﷺ سے جو کچھ سیکھا اسے پوری دنیا تک ایسے انداز میں اپنے کردار و گفتار سے پہنچایا کہ تا قیامت ان کی زندگیاں انسانیت کے لئے مشعل راہ ہیں ۔ لیکن افسوس صد افسوس آج ہم میں کہاں یہ صفات ؟  لیکن ابھی بھی رب العزت توفیق عطا فرمائیں تو اچھے استاد ہم بن سکتے ہیں ۔ گذشتہ دنوں ممتاز ماہر اقبالیات ڈاکٹر زاہد حسن چغتائی کی سر براہی میں ہمراہ طاہر درانی اْسوہ پبلک سکول (اے ،ایس ،سی )کالونی نوشہرہ کینٹ کے سالانہ یوم والدین کی تقریب میں بحیثیت مہمان مقرر کے حاضری کا شرف حاصل ہوا۔اْسوہ پبلک سکول کے بانی درویش منش باکردار استاد لیفٹینٹ کرنل (ر) غلام فرید کی درسگاہ کے معصوم طلباء کی جانب سے خوبصورت اور با مقصد پیش کردہ تعلیمی پروگرامز کے اختتام پر اپنے خوبصورت اور بصیرت افروز خطاب میں طلباء اور اْن کے والدین سے یوں مخاطب ہوئے۔ اُسوہ پبلک سکول کے دو سال مکمل ہونے پر سا لانہ تقر یب تقسیم انعامات کی اس تقریب میں آپ کی تشریف آوری کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اپنی گوناگوںمصروفیات کو چھوڑکر طلباء و طلبات کی حوصلہ افزئی کیلئے شرکت فرما کر علم دوستی کا ثبوت دیا ہے۔اْسوہ پبلک سکول نو شہرہ کینٹ نے اپنے قیام کے دوسال مکمل کیئے ہیں۔ جو کچھ معصوم طلباء نے آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔یہ اساتذہ کی محنت اور راہنمائی کا نتیجہ ہے۔ تعلیمی اداروں کو اپنی شاندار روایات قائم کرنے کے لئے ایک عرصہ لگتا ہے عزم و ہمت وہ اثاثہ ہے جو اس مقدس فریضہ کی انجام دہی کیلئے ممدومعاون ثابت ہوتا ہے ۔ماہرین تعلیم نے ایجوکیشن کی جتنی بھی تعریفیں کی ہیں اُن کے مطابق تعلیم وتعلم کا یہ من ضبط انداز میں سکول کے ماحول میںزیور تعلیم سے آراستہ کرتا ہے۔ وسیع تر معنوں میں سیکھنا ،علم میں اضافہ کرنا ، مختلف مہارتوںکا حصول، ذہنی اُفق کی بلندی ،تہذیب و ثقافت سے آگاہی مہذبانہ رویہ اورمذہبی اقدار سے آگاہی اور عمل اسکا حاصل ہے۔ قرآن مجید فرقان الحمید میں ارشاد ربانی ہے"قُل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون"کیا اہل علم اور جاہل برابر ہو سکتے ہیں ؟ھرگز نہیں ۔ تعلیم زیور انسانیت ہے "ھُو انفسکُم واھلیکم نارا "میں اولاد کی تربیت کی طرف اشارہ ہے ۔ اسلام تو مہد سے لیکر لحد تک تحصیل علم کا حکم دیتا ہے اور پھر
"اطلب العم و لو کان بالصین "کہ علم حاصل کرو۔خواہ چین جانا پڑے یہ فرمان نبوی ﷺ تعلیم کی اہمیت کو اُجاگر کرتا ہے۔ہمارے معاشرے میں مختلف نظام ھائے تعلیم رائج ہیں ۔ بعض تعلیمی ادارے بہت مہنگے ہیں جہاں صرف ا مراء کے بچے پڑھ سکتے ہیں ۔ اُسکے مقابلے میں گورنمنٹ کے تعلیمی اداروں کا جا ل بچھاہوا ہے ۔معیاری تعلیم نہ  ہو نے کی وجہ سے اُن کے اساتذہ کے بچے بھی پرائیویٹ سکولز میں پڑھ رہے ہیں ۔ اور پرائیویٹ سکولز کی بھی کئی قسمیں ہیں اُن سے ہر کوئی بخوبی آگاہ ہے۔ اُسوہ پبلک سکول نوشہرہ کینٹ کا بچوں اور بچیوں کو میعاری تعلیم دینے کیلئے اس ادارے کا آغاز کیا گیاطلباء کی ہمہ جہت تربیت صرف ضروری ہی نہیں بلکہ لازمی ہے ۔اس درسگاہ میں انگلش ،اردو میں تقاریر کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے تاکہ خود اعتمادی کے ساتھ بچے ابتداء ہی سے اپنا ماضی الضمیر بیان کرنے کی اہلیت و قا بلیت کے جوہر حاصل کر پائیں طلباء کی ذہنی، جسمانی،روحانی اقدار کو پروان چڑھانے کیلئے درسگاہ کے اساتذہ ملی و مذہبی جذبے سے سر شار ہو کر اپنے فرائض کی بجاآوری کر رہے ہیںاس تعلیمی َگلشن کا قیام تو میں سچے جذبوں سے لے آیا ہوں اب اس کی آبیاری اے ایس سی کالونی نوشہرہ کینٹ کے مکینوںکا کام ہے وہ اس شمع سے اپنے مستقبل کو کیسے روشن کرتے ہیں ۔ قارئین کرام! کرنل (ر) غلام فرید جو کہ آرمی ایجوکیشن کور سے ریٹائرڈہیں اور ملک کی ممتاز درسگاہوں بالخصوص ملٹری کالج جہلم جیسے ادارے سے اپنے افرائض منصبی سر انجام دے چکے ہیں اور آج اس مادیت پرستی کے دور میں بھی بغیرکسی مالیمنفعت کے نو نہالان کی تعلیم و تربیت ایک مذہبی فریضہ سمجھ کر اپنی دنیا و آخرت کی کامیابی کیلئے کوشاں ہیں ۔ کرنل(ر)غلام فرید چاہتے تو کسی بھی بڑے ہائی فائی ادارے کو جائن کر کے لاکھوں روپے ماہانہ اعزاز یہ بمعہ مراعات لئے ہوئے پور ے پروٹو کول کے ساتھ اپنے آپ کوجاگزیں کر لیتے لیکن سلام ہے ایسے محب وطن اور علم دوست شخصیت کے لیے جوآج کے اس دور کے اساتذہ کیلئے نہ صرف ایک قابل تقلید مثال ہیں بلکہ نجی تعلیمی و سرکاری  اداروں کے سر براہان اور اساتذہ کو بھی رب العزت کرنل (ر) غلام فرید جیسی مثبت اور ملی سوچ عطاء کر دے تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے ملک کی اکثریتی آبادی کے بچے بھی جہالت کے اندھیروں سے چھٹکارا حاصل کر کے استاد کی عزت و وقار اور عظمت و سر بلندی کو بحال کر سکتے ہیں۔کیونکہ
ؔ    ؎    استادکی عظمت کو ترازو میں نہ تولو     استاد تو ہر دور میں انمول رہا ہے
    اگرآج کے اساتذہ طلباء کی شخصیت سازی پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ اُنھیں دینی تعلیم سے مزین کریں اخلاقیات کا درس دینے کے ساتھ ساتھ اپنی عملی زندگی میں ایک اچھے معلم کے اوصاف کو اپنا لیں تو یقیناآج بھی ہماری نئی نسل خلیفہ ہارون الرشیدکے بیٹوں کی طرح اپنے شاگردوں کو فرماں بردار ، مطیع اور صالح پائیں گے۔خلیفہ ہارون الرشید کے بیٹے مسجد میں تھے اُنھوں نے اپنے استاد کو دیکھا اور اس خواہش کے ساتھ جوتیوں کی طرف لپکے کہ پہلے وہ اُٹھائیں گے لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا دونوں کے ہاتھوں میں ایک ایک جوتا آیا اور اُنھوں نے اپنے استاد کے پاؤں میں جوتا پہنایا اور استاد مکرم نے ڈھیروں دعاؤں سے اپنے شاگردوں کو نوازا ۔ یہ استاد کی تعلیم و تربیت کا ثمر تھا کہ استاد کی جوتیاں اُٹھانے کے لیے خلیفہ وقت کے بچے یعنی شاگرد لپکتے تھے۔کاش کاش ! آج کے استاد کے اندر بھی یہ اوصاف حمیدہ پیدا ہو جائیں تو ہمارے معاشرے میں استاد کو وہی مقام دوبارہ حاصل ہو سکتا ہے بقول حضرت مولا علی کرم اﷲوجہ ؓ کے ’’جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا وہ میرا استاد ہے بلکہ آقا و مولا ہے‘‘۔دنیامیں علم کی قدر اُسی وقت ممکن ہے جب استاد کو معاشرے میں عزت کا مقام حاصل ہو جو طلباء استاد کا ادب و احترام کرنا جانتے ہیں اور اُن کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے استاد کا کہنا مانتے ہیں ہمیشہ کامیابی و کامرانی اُن کانصیب بنتی ہے افلاطون نے کیا ہی خوب کہا ہے کہ جس معاشرے کے لوگ سب سے زیادہ استاد کو محترم و مکرم مانے وہی حقیقی تہذیب یافتہ ہیں۔
خصوصی کالم : استاد تو ہر دور میں انمول رہا ہے ، عطا الرحمان چوہدری Reviewed by Voice of Taxila News on 14:55:00 Rating: 5

No comments:

All Rights Reserved by Voice of Taxila © 2014 - 2015
Powered By Blogger, Shared by Free WP Themes

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.