خصوصی کالم : اُمی نبیﷺ کی نظر میں تعلیم کی اہمیت
دِل کی باتیں اُمی نبیﷺ کی نظر میں تعلیم کی اہمیت عطاء ُ الرحمن چوہدری آف ٹیکسلا
علم کی اہمیت سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں زمانہ قدیم سے دور ِ حاضر تک کا ہر متمدن اور مہذب معاشرہ علم کی افادیت و اہمیت سے بخوبی آگاہ رہا ہے۔فطرت بشری سے مطابقت کی بنیاد پر اسلام نے بھی علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے ۔علم کے حصول کے لیے اسلام کے ابتدائی آثار ہمیں صدر اسلام یعنی رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک ہی سے ملتے ہیں۔بحیثیت مسلمان ہمارا یہ پختہ ایمان ہے کہ علم کا حصول ہمارے مذہب نے اس قدر ضروری قرار دیا ہے کہ نبی کریم ؐرحمت العالمین ؐخاتم النبین ؐپہ پہلی آیت مبارکہ ’’اقرائ‘‘ ہی سے قرآنی نزول کا آغاز ہوا۔جس سے علم کے حصول کی اہمیت روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔غزوہ بدر رمضان 2ہجری کے قیدیوں کی رہائی کے بدلے فدیہ کے طور پر رقم مقرر کی گئی تھی ان میں سے جو قیدی نادار تھے وہ بلامعاوضہ چھوڑ دئیے گئے لیکن جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے اُن کے لیے رسول پاک ﷺ نے حکم دیا کہ 10,10مسلمان بچوں کو یہ لکھنا پڑھنا سکھا دیں تو رہائی عمل میں آجائے گی چنانچہ سید نا زیدبن ثابت ؓ نے جو کاتب وحی تھے اُنھوں نے اسی طرح لکھنا پڑھنا سیکھا تھا یہ معمولی واقعہ ہی اس بات پہ دلالت کرتا ہے کہ نبی اقدس ﷺ کی نگاہوں میں تحصیل علم کس قدر ضروری تھا؟ اور یہ ہمارا ملک نبی کریم ﷺ کی مثالی ریاست مدینہ کی عین امنگوں کے مطابق نظریاتی ریاست کے طور پر وجود میں آیا۔افسوس صد افسوس کہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک کسی بھی قومی یا صوبائی حکومت نے فروغ ِ تعلیم کے لیے وہ کام نہیں کیا جس کی اس وطن عزیز کو ضرورت تھی یہی وجہ ہے کہ آج شیخ سعدی ؒ کے قول
’’جس آدمی میں علم نہیں وہ آدمی نہیں جانور ہے اور جس گھر میں کوئی علم والا نہیں جانوروں کا دربار ہے اور جس ملک میں علم کا رواج نہیں وہ ملک نہیں حیوانات کا جنگل ہے‘‘۔ شیخ سعدی ؒ کی دورس نگاہوں نے شاید ہمارے ملکی تعلیمی حالات کو بہت پہلے ہی سے دیکھ لیا تھا۔آج ہمارے ملک کے کم و بیش ۳ کروڑ بچوں نے ابھی تک درسگاہوں کا منہ نہیں دیکھا۔ریاست پاکستان کے آئین میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ ریاست کا یہ فرض ہے کہ وہ قوم کے بچوں کو تعلیم جیسے زیور سے نوازنے کے لیے اپنے تمام و سائل بروئے کار لاتے ہوئے مفت تعلیم کی فراہمی کی ذمہ دار ہے۔لیکن عملا ً ایسا نہیں آج ہماری شرح خواندگی دنیا کے کم تعلیم یافتہ ممالک کی فہرست میں ہمارا درجہ آخر سے تیسرا ہے۔ کتنے شرم کی بات ہے کہ آج تک ہم یہ فیصلہ نہیں کر پا ئے کہ ہم نے اپنی قوم کو اپنی زبان میں تعلیم دینا ہے یا کسی اور پا لیسی کو اپنانا ہے۔آزادی کے وقت ہماری قوم 17%خواندہ لوگوں پر مشتمل تھی اگر حکومتی وسائل اور پالیسیاں علم دوست ہوتیں اور سالانہ صرف ایک فیصد ہی ہماری شرح خواندگی بڑھتی تو یقینا آج ہمارے ملک کی خواندگی کا گراف 80%سے زاہد ہوتا لیکن اس اہم قومی ترقی اور ریاست کو مضبوط تعلیم یافتہ قوم بنانے کی جانب کسی نے توجہ ہی نہ دی ۔1972 ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لینے کا بھی غلط نتیجہ نکلا اور قوم کے شعور کو اجاگر کرنے والے لوگ بد دل ہوگئے اور تعلیمی ادارے وقت کے ساتھ ساتھ سیاست کی بھینٹ چڑھتے رہے۔ پالیسی سازوں کی جانب سے بیرونی امداد پہ ایڈھاک پالیسیوں نے قوم کے بچوں پہ تجربات در تجربات کے عمل سے گزارتے ہوئے جو بیڑا غرق کیا اُسی کا نتیجہ ہے کہ آج طبقاتی نظام تعلیم نے ہمارے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رکھا ہے ۔سرکاری تعلیمی اداروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پرائیویٹ شعبہ کی کارکردگی قابلِ صد تحسین ہی نہیںبلکہ ریاست کی ذمہ داری کو اس شعبہ نے اپنی مدد آپ کے تحت اٹھا کر 55% سرکار کا بوجھ اپنے کندھوں پہ لاد رکھا ہے۔
ان نجی تعلیمی اداروں کی حوصلہ افزائی کی بجائے ان کے خلاف ریاستی اداروں کی جانب سے ہر وہحربہ اختیارکیا جاتارہا ہے کہ فروغِ تعلیم کے لیے مشنری جذبہ سے کام کرنے والے بد دل ہو کر اپنے چھوٹے چھوٹے تعلیمی اداروں کو بند کرنے پہ مجبور ہو جائیں ۔آج ہمارے معاشرہ میں مادیت پرستی کی دوڑ میں قوم کے بچوں کی تعلیمی آبیاری یا نظریاتی تعلیم و تعلم سے نئی نسل کو آشکارا کرنے کی بجائے اُن سے مال کیسے بٹورا جائے عصر حاضر میں اس فارمولے پہ بھی بہت سے عناصر نہ صرف کام کر رہے ہیںبلکہ نئی نسل کی تعلیم ایسے طریقے سے کی جارہی ہے جہاں تربیت کے فقدان کے باعث نظریہ پاکستان کی اساس سے عاری قوم تیار کی جارہی ہے اور دولت کی چمک ریل پیل والے ایک اشرافیہ طبقہ کے بچے تو مہنگے اور ہائی فائی سکولز میں سے تعلیم لیکر حاکمیت کے لیے تیار ہو رہے ہیں جبکہ 70%غریب کا بچہ کلرک ،بابو،چپڑاسی یا زیادہ سے زیادہ استاد،فوج کا سپاہی تیارہو رہا ہے یہ تفریق کیوں ہے؟یہ تفریق کیوں ہے؟ اسکا جواب شائد کسی کے پاس نہیںاس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ نجی شعبہ کی شراکت کے بغیر وہ مقاصد ہر گز حاصل نہیں ہو سکتے جسکی تمنا اور آزرو پرنٹ و الیکڑانک میڈیا کے ذریعے ہمارے حکمران قیام پاکستان سے لیکر اب تک کرتے چلے آرہے ہیں۔بین الاقوامی فنڈنگ ادارے اور عالمی ڈونرزجیسے یونیسف ،یونیسکو ،یو این ڈی پی،گارا،آسٹریلین ایڈ وغیرہ وغیرہ سے تعلیم کے نام پہ جورقم ماضی میں لی گئی ہے اگر اُسکا عشر عشیر بھی حقیقی معنوں میں تعلیم کے فروغ پہ صرف کیا جاتا تو بہتر نتایج آسکتے تھے اوراب بھی اگرہمارے حکمران و رہنما قوم کو خواندہ بنانا مقصودسمجھتے ہیں تو حکومتی تعلیمی پالیسیوں کو مرتب کرتے وقت نجی شعبہ کے ذمہ داران سے مشاورت لینا حکومت اپنا تعلیمی و ملی فریضہ سمجھے۔ خادم اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف جس طرح سے چاہتے ہیں کہ پنجاب کا ہر ایک بچہ درسگاہ میں حصول علم کیلئے رخ کرے اور حقیقی معنوں میں’’ غربت کا خاتمہ بذریعہ تعلیم‘‘ کے خواب کو شرمندہ تعبیر دیکھنا چاہتے ہیں تو اُنھیں پھر پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی کیونکہ وطن عزیز کی شرح خواندگی کے فروغ میں بغیرحکومتی وسائل کے فروغ تعلیم کے لیے جہاد کرنے والوں اہل علم و دانش کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی۔فروغ ِ تعلیم کے لیے علم دوست پالیسیوں کو آگے بڑھانا ہو گا۔کیونکہ جب تک قوم خواندہ نہیں ہو جاتی اُس وقت تک جہالت کی وجہ سے دہشت گردی نہ صرف پروان چڑھے گی بلکہ اُسے مذید فروغ حاصل ہو گا اور اس دہشت گردی کی لعنت کو ہم قلم و تختی کے ذریعے ہی روک سکتے ہیں ۔ان خوبصورت خیالات کا اظہار گزشتہ روز واہ چھاونی کی ممتاز علمی شخصیت سردار محمد شفیق پرنسپل کوئیسٹ انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز واہ چھاؤنی اور درسگاہ کے ڈائریکٹر ملک کامران اسلم کی جانب سے خوبصورت استقبالیہ تقریب سے مقررین نے کیا۔ تقریب سے آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن راولپنڈی ڈویثرن کے روح رواں چودھری محمد فرقان ،صدر پروفیسر ابرار احمد خان سینئر نائب،صدر ملک حفیظ اللہ آف کوٹ چھجی ممتاز ماہر تعلیم حقیقی صدارتی ایوارڈ یافتہ پروفیسر ابرار شاکر آف پنڈی گھیب ،چودھری خالد محبوب ایڈوکیٹ،شیخ قمر احمد، مسز آفتاب ملک ،چودھری صفدر حسین جٹ اور راقم نے کیا ۔ تقریب میں واہ چھاؤنی ،ٹیکسلا حسن ابدال کے ممتاز علم دوست شخصیات کے علاوہ ڈویثرن بھر کے نجی سیکٹر کے نمائندوں نے بالخصوص محمد یونس راحت،قاری اورنگ زیب،انیس احمد، ذوالفقار احمد، محمد عقیل،علاوالدین ،عامر انور،محمد فاروق،ظہور جنجوعہ،شفقت حیات،چودھری پرویزاختر اور زاہد رفیقکی شرکت نے تقریب کو چار چاند لگا دئیے۔ سابق ڈپٹی ڈی ای او عبدالخالق نے بھی بطور خاص شرکت فرمائی۔سبھی مقررین نے اُن کی علم دوستی پہ اُ نھیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ تقریب کے میزبان ملک کامران اسلم ، سردار محمد شفیق اور چیئرمین سر سید ایجوکیشن فاؤنڈیشن پاکستان طاہر درانی نے نہ صرف معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا بلکہ پرتیاک طریق سے رخصت بھی کیا۔علم و ادب ،پیار و محبت اور پاکستان کے لیے درد دل رکھنے والے خوبصورت اذھان و قلوب اور تعلیم یافتہ پاکستان کے آرزومندوں نے اس موقع پر یہ عہد بھی کیا کہ علم کے فروغ کیلئے اپنے پیارے امی نبی ؐ کی ہدایت کے مطابق وہ اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنے اپنے حصے کا کردار ضرور ادا کریں گے۔ اﷲکرے ایسا ہی ہو۔ امین
خصوصی کالم : اُمی نبیﷺ کی نظر میں تعلیم کی اہمیت
Reviewed by Voice of Taxila News
on
01:14:00
Rating:
Reviewed by Voice of Taxila News
on
01:14:00
Rating:

No comments: