Top Ad unit 728 × 90

Smiley face

Latest

recent

خصوصی کالم : دنیا کے منصفو! کشمیر کی آزادی تک۔۔۔ عطاء ُ الرحمن چوہدری

دِل کی باتیں       دنیا کے منصفو!  کشمیر کی آزادی تک۔۔۔ عطاء ُ الرحمن چوہدری
    ؎  پکارتے ہیں وہ کشمیر کے گلی کوچے 
        بلا رہے ہیں وہ جلتے ہوئے درو دیوار
    لگا رہے ہیں طمانچے ضمیر عالم پر
        وہ کشتگان ستم سے اَٹے ہوئے بازار
    کشمیر فردوس بریں ،کشمیر کی گل پوش وادیاں، روئی کے گالوں سے ڈھکی چٹانیں ہنستے مسکراتے لہلہاتے مرغزار اور مہکتے، چہکتے اور دمکتے ہوئے سبزہ زار، ساز بجاتی اور گیت گنگناتی ندیاں اور رنگ ونور میں نہائی ہوئے نظاروں بھری سرزمین جہاں ہر طرف آگ ہی آگ ہے جہاں بارود کی بُوپھیلی ہے ،جہاں ظلم کے بادل چھائے ہیں، جہاں معصوم کلیوں، مسکراتی جوانیوں اور غمزدہ بڑھاپوں کو موت کی اتھاہ تاریکیوں میں دھکیلا جارہا ہے ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟اس وادی رنگ ونور میں موت کا یہ کھیل کیوں کھیلا جارہا ہے؟
قارئین کرام! یہ بہت سے سوال ہیں جن کا صرف ایک ہی جواب ہے بھارتی سامراج۔
کشمیر کی تحریک آزادی کا آغاز 18 مارچ 1842ء کے المناک دن سے ہوتا ہے جب ایسٹ انڈیا کمپنی کے انگریز آقائوں اور شکست خوردہ سکھ دربار کے درمیان ایک رسوائے عالم معاہدہ طے پایا تھا جس کی رو سے جموں کے گلاب سنگھ ڈوگرہ نے 75لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض کشمیر کی جنت ارضی کو خرید لیا اور ملعون انگریزوں کی سرداری اور سرپرستی میںجموںکشمیر ، لداخ اور گلگت کے مہاراجہ کی حیثیت اختیار کر لی۔ کشمیری غلام تو بن گئے مگر انہوں نے اس غلامی کو قبول نہ کیا بلکہ للکار کر کہتے ہیں کہ
؎میرا دشمن مجھے کمزور سمجھنے والا
وہ سمجھتا ہے مجھے حرف غلط کی مانند
                      ختم کر دے گا مٹا دے گا فنا کر دے گا
                    اور مجھ سے میری ہستی کو جدا کردے
    وہ کشمیر جہاں کبھی پھول کھلتے تھے۔ فضائوں میں ابر پارے رقص کرتے تھے اور نرم ہوائوں کا گزر تھا آج وہاں تاریکی اور سناٹا چھایا ہوا ہے۔ ایک کروڑ کشمیریوں پر انگارے برسائے جارہے ہیں۔ سنگین کی نوک سے ان کے سینے چھلنی کئے جارہے ہیں۔ جہاں بادِ سحر تو آتی ہے لیکن ہزاروں دشت وصحرا کی تپش ساتھ لاتی ہے۔ جہاں  برگ وثمر شبنم کے اک قطرے کی امیدوں پر چلتے ہیں جہاں سروسمن صدموں سے اپنے سرجھکائے سوچ میں گم ہیں۔ جہاں صحن چمن میں پھول اور خوشبو کسی سازش کے ڈر سے دور دور رہتے ہیں۔ جہاں ہاتھوں میں طائران خوشنوا بے چارگی سے بین کرتے ہیں، جہاں اندھیری رات اپنے بال بکھیرے ہر روشنی کو ڈھانپ رہی ہے جہاں راتوں کو تنہائی اور دنوں میں کرب وبے بسی کا دور دورہ ہے یوں لگتا ہے درندوں کی بستی ہر طرف قہقہے وحشی قہقہے، خون مسلم کی ارزانی،ظلم واذیت کا دیو کشمیر کے مسلمانوں کو نگل رہا ہے۔
            ؎    آتی ہے صدا سوختہ لاشوں سے مسلسل         انسان کو آواز دو انسان کہاں ہے
    قارئین کرام: دیکھنے والی آنکھ کو شاید ہی کوئی گھر ایسا ملے جو ماتم کدے میں تبدیل نہ ہوچکا ہو۔ یہ گھرانے کا سربراہ ہے جو ایک ٹانگ یا بازو گنوائے بیٹھا ہے۔ یہ بچہ ہے جس کی آنکھیں ضائع ہوچکی ہیں۔ یہ ننھی مریم ہے جس کا خوبصورت چہرہ بم سے جھلس چکا ہے۔ یہ ایک بیوہ ہے جس کا شوہر شہید ہوچکا ہے۔ آپ کو کم ہی ایسے لوگ ملیں گے جو اپنے عزیز اور اپنے خاندان کی بہت سی بیوائوں یا کئی کئی یتیموں کا پیٹ نہ پال رہے ہوں۔ وہ بچے جن کی مائیں چھن گئیں ماں کے نقش سے لیٹے پکار رہے ہیں۔
            ؎     میں ترا بے خواب بچہ ماں بتا میرے لیے         کوئی لوری کیوں نہیں کوئی کہانی کیوں نہیں
 دنیا میں تہذیب وتمدن کے علمبرداروں سے کیا تمہیں بھوک سے بلبلاتے بچوں کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں۔ لاکھوں انسان کھلے آسمان تلے اپنی قسمت کے منتظر ہیں۔ وہ زخمی انگلیوں سے زنجیر عدل ہلا رہے ہیں۔ لیکن اقوام متحدہ کے ایوانوں میں کوئی گونج سنائی نہیں دے رہی ماتم یوسف ہورہا ہے۔ ہر آنکھ یعقوب وار رو رہی ہے۔ امن عالم کے رکھوالو!  دنیا پوچھتی ہے سوال کرتی ہے کیا کشمیر کا غم دائمی ہے؟ کیا اس خزاں کے لیے کبھی کوئی بہار نہیں؟ کیا اقوام متحدہ یونہی تماشائی بنی رہے گی؟
            ؎      تماشائے رقص بسمل ہو چکا اب جھانکنے والو         ’’خدارا بند کر دو روزن دیوار زنداں کو‘‘
بھارتی حکمرانو!  سن لو کہ     جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم         جو چلے تو جاں سے گزر گئے         رہ یار ہم نے قدم قدم         تجھے یادگار بنا دیا
کشمیر کل بھی ہمارا تھا، کشمیر آج بھی ہمارا ہے۔ میرے قائد نے اسے شہ رگ پاکستان اس لیے قرار دیا تھا کہ کشمیر اور پاکستان ایک ہیں۔ ان کی ثقافت ایک ہے۔ تہذیب وتمدن یکساں ہے مذہب ایک ہے اور سب سے بڑھ کر جغرافیہ ایک ہے اس لیے ہم کشمیر کا مطالبہ کیوں نہ کریں کہ ہم جانتے ہیں کہ کلیوں اور پھلوں کی یہ حسین وادی جب تاریخ کے صفحات پر ابھری تو ہم نے بڈھ شاہ اور زین العابدین جیسے مسلمان سلاطین کو سرپر آرائے سلطنت دیکھا جنہوں نے وادی کشمیر میں اللہ اکبر کی صدائیں بلند کیں اور آج کشمیر کی وادی آزادی کے فلک شگاف نعروں سے گونج رہی ہے۔
            ؎     یاراںِ جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت         اور جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی
آج دنیا بھرمیں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے دنیا بھر کے انسانی حقوق کے نام نہاد علم برداروں کو کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم نہ جانے کیوں نظر نہیں آرہے۔ دنیا کے مسلمانوں بالخصوص کشمیری عوام کیلئے اقوام متحدہ کا دوہرا معیار اُس کی کارکردگی پر ایک بدنما داغ ہی نہیں بلکہ ظالم کا ساتھ دینے میں یہ ادارہ بھی برابر کا شریک ہے۔یاد رکھیے خدا کے ہاں دیر ضرور ہے تاہم اندھیر نہیں اس موقعہ پر تمام پاکستانی خواہ اُن کا تعلق کسی بھی فرقہ ، مسلک یا علاقہ سے ہو کشمیر کے معاملے میں ساری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ حق خود ارادیت کے حصول میں اُن کے ساتھ آزادی کی جنگ میں کھڑی ہے۔ کشمیر بنے گا پاکستان انشاء اﷲ
خصوصی کالم : دنیا کے منصفو! کشمیر کی آزادی تک۔۔۔ عطاء ُ الرحمن چوہدری Reviewed by Voice of Taxila News on 00:52:00 Rating: 5

No comments:

All Rights Reserved by Voice of Taxila © 2014 - 2015
Powered By Blogger, Shared by Free WP Themes

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.