Top Ad unit 728 × 90

Smiley face

Latest

recent

خصوصی کالم : ادبی تنظیم فانوس کے زیرِاہتمام ڈاکٹر وحید احمد کے ساتھ تقریب ِپزیرائی : عطا الرحمان چوہدری

                ادبی تنظیم فانوس کے زیرِاہتمام ڈاکٹر وحید احمد کے ساتھ تقریب ِپزیرائی
ادب کے لغوی معنی تہذیب کے ہیں انسان کا رہن سہن بات چیت کا انداز پہننے اوڑھنے کا سلیقہ تہذیب ہی کا نام ہیں۔
اگر ہم یہ سوچیں کہ ادب کیسے تخلیق پاتا ہے؟تو پھر دیکھیے زندگی کے کینوس پر بکھرے ہوئے رنگوں کو۔۔۔ان بکھرے رنگوں کو قوت گویائی کیا چیز دیتی ہے ؟لفظ دیتا ہے، تو لفظ کی طرف چلتے ہیں لفظ کھٹے میٹھے تیز و ترش اور شہد کی طرح مٹھاس رکھنی والی شیرنی کی طرح ہوتے ہیں یہ لفظ پھر الفاظ بنتے ہیں اور الفاظ بچوں کی طرح شریر ہوتے ہیں ۔الفاظ نہ ہو تو ساری کائنات پر ایک جامد طاری ہو جائے زمین خاموش،آسمان چُپ ،محبت کا پھر سہارا جہاں ہی چُپ ،محبت حقیقی ہو یا مجازی اگر جذبے سچے ہوں تومنزل قریب دکھائے دے گی اگر محبت کے جذبے کچے یا ناقص ہوتو منزل تو کجا۔۔۔۔؟بھٹک ہی بھٹکہر بات ہر جذبہ خواہ وہ سچائی پر ہو یا بد نیتی پہ اپنے اظہار کے لیے لفظوں کا محتاج ہوتا ہے۔یہ لفظ نظم کے پیرائے میں ہو یا غزل کی صورت میں ،الفاظ یقینا غزل کی لے میں ڈھلے ہوئے کہلائیں گے۔
ادب کے اظہار سوچ و فکراورجذبات کے لیے ازل سے ابد تک ایک ہی زبان استعمال ہوتی ہے۔ادیب کی زبان کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ جو کچھ سوچتا اور محسوس کرتا ہے اسکا اظہار کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔اگر وہ محض اپنے علم کو دوسروں تک پہنچانے کی بجائے اس میں اپنے احساسات و جذبات کی آمیزش کرے تو تخلیق ادب کے منصب پر فائز ہو سکتا ہے۔زندگی معاشرے اور تہذیب کی ترجمان و نقاد ہوتی ہے یہ انسانی احساسات و جذبات اوربلند سے بلند تر خیالات کا فنی اظہار ہے اس میں سماجی اور افادی پہلو ہوتا ہے۔فنی او ر جمالیاتی بھی،اسکی یہی خصوصیت اسے زندگی سے ہم ترین بناتی ہے۔ادب ایک سماجی عمل ہے ایک ایسا سماجی عمل جو مقصد بھی اور اعلیٰ تر مقصد کے حصول کا ذریعہ بھی جس میں مواد اور ہیت دونوں کی حیثیت جسم اور روح کی ہیں ادب اپنے دامن میں،اپنے عہد کے سماجی،سیاسی ،معاشرتی اور اقتصادی مسائل کو سمیٹے ہوئے ہے۔دنیا کے کسی بھی ادب کا اگر آپ بغور مطالعہ کریں تو آپ پہ یہ حقیقت عیاں ہو جائے گی کہ ادب اپنے گرد و پیش کی زندگی اور اُسکے مسائل سے اپنا دامن نہیں بچا سکتا۔میرؔ،غالب ؔاور اقبالؒ نے جہاں زندگی کی بنیادوں ،قدروں اور انسانی مسائل کو اپنے ادب کا حصہ بنایا ہے۔اپنی فکر اور اپنے جذبات کی آمیزش کی ہے۔یہی امتزاج ان کے فن کو عظمت کی بلندیوں پر لے گیا ادب سماجی شعور ہے بلکہ شعور کا عکاس ہے۔گہرے شعور اور احساس کی بدولت ہی انسانیت کے بارے میںدرد مندی کا جو جذبہ شاعر اور ادیب کے دل میں پیدا ہوتا ہے وہ زندگی میں قدم قدم پر غور کرنے اور انسانی محرومی اور نا کامی پر کُڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔ؔ    ؎  خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم میرؔ    سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہےیہی وہ جذبہ ہے جو ادیب کی زندگی کا اقداربلند کرنے اور انسانیت کے غم و آرام کو دور کرنے کے بارے میں غورو فکر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔یہی سماجی اجتماعی جذبہ معاشرے میں ادیب کا منصب اور مقام کا تعین کرتا ہے۔ادب ہی عوام سے رابطے کا بہترین ذریعہ ہے۔اسی لیے ادب کو اصلاح کے لیے چنا گیا ہے۔ادب شعور عطاء کرتا ہے اور فکر کی جانب مائل کرتا ہے۔شاعر اور مصنف اپنی احساس طبعیت کی وجہ زندگی کے مصائب ایک عام آدمی کی نسبت زیادہ گہرائی سے محسوس کرتے ہیں اور یہی کیفیت اُن کے کلام میںبھی نمایاں ہوتی ہے۔ادب کی ترویج و ترقی کے لیے ’’فانوس‘‘ادبی تنظیم عرصہ ۱۹۶۲؁ء سے واہ چھاونی میں علم و آگاہی کے لیے مصروف عمل ہے۔ابن الحسن سید،مبارک شاہ،اکمل ارتقائی،عثمان نائم ،الیاس صدا،راز مراد آبادی،سید منظور الکونین اقدس،بشیر احمد صمصام ،تپش برنی، خادم جعفری ، طفیل کمال زئی،ڈاکٹر ایس اے علوی،رانا سعید دوشی، سعید اختر،ڈاکٹر روف امیر خانوی،سبطِ علی صبا،علی مطہر اشعر،محمد اظہار الحق،علامہ یوسف جبرائیل اور بڑے بڑے ادیبوں ،شعراء نے اس پلیٹ فارم سے علم و آگاہی کی مہم کو جاری و ساری رکھا اور آج بھی اہلیان واہ اُن کی دی ہوئی روشنی سے استفادہ کر رہے ہیں ۔فانوس تنظیم کے روح رواں ممتاز سماجی و ادبی شخصیت اور عبدالستار ایدھی مرحوم کے دست راست محمد عتیق عالم خان گذشتہ کئی سال سے اہم ملی و بین الاقوامی دنوں کی مناسبت سے اپنی مدد آپ کے جذبے کے تحت تقریبات کے انعقاد میں سر گرم عمل رہتے ہیں ۔اُن کی معاونت میں ممتاز شاعر و نقاد و صاحب کتاب شعیب ہمیش،عبدالباسط معصومی،خالد نصیر خان،زین الاسلام،عابد حسین،علام الدین بھی اُن کے شانہ بشانہ ہیں۔اللہ رب العزت ان احباب کی مساعی جمیلہ کو شرفِ قبولیت بخشے جو معاشرہ کے سدھار کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔گذشتہ دنوں راقم کو فانوس کی جانب سے پُر خلوص دعوت ’’تقریب پزیرائی ڈاکٹر وحید احمد‘‘میں طاہر درانی و سردار محمد شفیق خان کی ہمراہی میں شرکت کا موقع ملا اور یہ تقریب اس لحاظ سے بھی منفرد تھی کہ صاحب شام کے علاوہ واہ،ٹیکسلا ،حسن ابدال اور راولپنڈی ،اسلام آباد کے ادبی قد کاٹھ رکھنے والی شخصیات بھی ایک دوسرے سے بغل گیر تھیں۔
    تقریب کے مہمان خصوصی ممتاز ادبی شخصیت ملک سعید اختر تھے جب کہ صدارت کے فرائض ممتاز کالم نگار ادیب شاعر و نقاد ’’و تلخ نوائی‘‘ کالم کے خالق محمد اظہار الحق نے سر انجام دئیے۔
تلاوت ونعت رسول مقبول ﷺ کے بعد عبدالباسط مصومی نے تنظیم کی کار گزاری سے حاضرین کو آگاہ کیا۔افسانہ نگار خالد قیوم تنولی،شاعر محمد مشتاق آثم اور نوجوان ادیب محمود اظہر نے بڑے خوبصورت اور لطیف پیرائے میں صاحب شام کی تصانیف کے مختلف حوالہ جات سے مقالات پیش کیے مقررین نے کہا کہ وحید احمد کی شاعری و نثر نگاری میں تخلیق کار کی اخلاقی،مشاقی اور قادر اکلامی میں دور اندیشی کے امکانت ہی نہ صرف پہناں ہیں بلکہ اُنھوں نے اپنی شاعری میں جذبات و تجربات اور مشاہدات کے حسین مدوجذر کے ساتھ ترجمانی کرتے ہوئے اپنے حسین خیالات کو قاری تک پہنچانے کی جو سعی کی ہے اُس میں روایتی ،جمالیاتی اور لسانی اعتبار سے عشق و تعقل کا خوب سہارابھی لیا ہے۔ڈاکٹر وحید احمد کے متعلق نوجوان تازہ کارقلم نگار ونوجوان شاعر و نقاد صاحب کتاب ون مینجمنٹ انجینئر محمود اظہر نے اپنے مقالہ میں کہا کہ شاعر نے عشق و محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر زندگی کے مسائل سے نبردآزما ہونے کا جو درس دیا ہے وہ واقعی قابلِ تعریف ہے۔ڈاکٹر و حید احمد نے ایک جانب زندگی کی خوشیوں اور دوسری طرف زندگی کی کھٹنائیوں کو جس طرح سے محسوس کیا ہے یا اپنے قاری کو محسوسیت کے جذبات سے مغلوب کرنے کی جانب جو کاوش کی ہے عام قاری اُسے اپنی خوشی یا دکھ تصور کرتا ہے یہی اُن کا ادبی قرینہ ہے۔صاحب شام ڈاکٹر وحید احمد نے مائیک پر آتے ہی منتظمین اور حاضرین کا شکریہ ادا کرنے کے بعد اپنے خیالات کو کچھ اس طرح جاری رکھا۔اُنھوں نے کہا کہ بنیادی طور پر میں ایک نظم گو شاعر ہوں اور نظم کو کہانی کی صورت میں لکھتا ہوں میں اپنے وطن عزیز کی خوبصورت روایات اور ثقافت کو ایسا حقیقی رنگ ڈھنگ میں سمونے کی کوشش کرتا ہوں کہ قاری نہ صرف حقائق کے قریب رہتے ہوئے اپنے مشاہدات اور تجربات کے ذریعے اپنے سکھ ،خوشی،راحت اور سکون کو محسوس کر سکے جو قدرت کی ہم پہ عنایات ہیں اور سماجی رویوں میں ایسی تبدیلی لائے جس سے جہالت ،غربت،چور بازاری بالخصوص دہشت گردی کی جڑیں اکھاڑ پھینکی جا سکیں۔اُنھوں نے صریرخامہ واہ کینٹ کے زیر اہتمام ’’لوسر باولی‘‘ کے مقام پر اپنی بھیٹک کا خاص طور پر ذکر کیا ۔اُنھوں نے اپنی کتب سے مختلف نظمیں سنا کر خوب داد پائی۔ مہمانِ خصوصی ممتاز ادیب ملک سعید اختر نے خوبصورت تقریب کے انعقاد پر منتظمین کا شکریہ ادا کیااور صاحب شام کی کتب ’’شفافیاں ،ہم آگ چراتے ہیں،نظم نامہ،زینو،مندری والا‘‘ کے مختلف حوالہ جات سے نوازا اور اُن کی ادبی خدمات کو سہراتے ہوئے اُنھیں وطن عزیز کا نامور مصنف قرار دیا ۔صاحب صدر اور کئی کتب کے مصنف ممتاز کالم نگار محمد اظہار الحق صدارتی کلمات کے لیے تشریف لائے تو مجھے اُن کے وہ بصیرت افروز باتیں یاد آ گئی جب ۱۹۹۳؁ء میں اسلامیہ ماڈل سکول ملہو ڈھیری کے یوم والدین کی تقریب میں آپ نے کی تھیں۔آپ نے فرمایا تھا کہ آج نئی نسل کو تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کی ضرورت ہے اور درسگاہوں میں تربیتی پہلوؤں سے اساتذہ کوتاہی برت رہے ہیں۔یقینا ترنول اسلام آباد کے نجی تعلیمی ادارے کے ساتویں جماعت کے طالب علم کی اپنی استانی سے عشق میں نا کامی پر خود کشی نے پورے سماج کے منہ پر ایسا طمانچہ رسید کیا ہے کہ آج ہمارے اساتذہ اور درسگاہیں اور والدین بچوں کی کردار سازی پر توجہ نہیں دے پا رہے اور نجی اداروں کی اکثریت مال بنانے کے چکر میں نئی نسل کے اخلاقیات کی جنازہ گاہیں بنی ہوئی ہیں تبھی تو ہمارے ادیب اور قلم کار قوم کو جھنجھوڑنے کے لیے بار بار کہہ رہے ہیں ’’جہاں سکولوں کے بچے عشق میں خود کشیاں کرنے لگیں وہاں تعلیم کی نہیں تربیت کی ضرورت ہے ‘‘ اور یہی بات صاحب صدر نے آج سے ۲۴سال قبل عطاء اللہ شاہ ہاشمی کی درسگاہ میں فرمائی تھی اُس تقریب کے مہمانِ خصوصی اُس وقت کے وفاقی وزیر مملکت پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد اٹک والے تھے جو آج بھی اُسی منصب جلیلہ پر فائز ہیں اُن کی جانب سے درسگاہ کے معذور و ہونہار استاد محمد عامر کے لیے اعلان کردہ دس ہزار روپے کی انعامی رقم کا آج بھی وہ منتظر ہے۔محمد عامر نے انعامی رقم کے حصول کے لیے کئی ہزار روپے اور بہت ساقیمتی وقت اسلام آباد کے پھیروں کی نذر کر دیا وزیر موصو ف کی نگاہ سے اگر یہ کالم گزرے تو اُنھیں چاہیے کہ۲۴ سال بعد ہی اپنے اعلان کردہ عمل کو عملی شکل دے کر معذور ٹیچر محمد عامر کی داد رسی کر دیں ۔ نہ کہ ؟’’ اعلان اعلان ہوتا ہے اور ڈگری ڈگری ہوتی ہے‘‘ وزیر موصوف اگر ۲۴ سال بعد اپنے اعلان کی لاج رکھ لیںتو محمد عامر کے بہت سارے دکھوں کا مداوا ہو جائے گا۔صاحب صد ر نے ابتدائی کلمات کے بعد کہا کہ مجھے بڑا افسوس ہو رہا ہے کہ اس تقریب میں واہ چھاونی جیسے با ادب اور با ذوق خطہ کی خواتین کی شرکت صفر ہے ایک شاعرہ تشریف فرما ہیں وہ بھی شاید سیالکوٹ سے برآمد شدہ ہیں اُنھوں نے اپنے قیام واہ چھاؤنی کے حوالہ سے اس مردم خیز خطے کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے مبارک شاہ اور ابن الحسن سید کا خصوصی ذکر کیا ۔
قارئین کرام!ابن الحسن سید کیا ہی نفیس شخصیت تھے یہ ۱۹۷۳؁ء کی بات ہے مین بازار نواب آباد کے سڑک کی تکمیل پے افتتاحی تقریب منعقد ہے ابن الحسن سید مہمانِ خصوصی ہیں۔ مرحوم ایف ڈی چودھری نے انجمن فلاح و بہبود نواب آباد کی داغ بیل ڈال کر سید مظفر حسین شاہ ،حاجی ڈاکٹر محمد بنارس خان، ڈاکٹر مظفر خورمی ،چودھری خوشی محمد ،بشیر خان آف جلالہ،ملک بوستان آف بادیہ میرا،ملک فتح حیدر،ملک نور محمد ،میر اٖفضل کیانی ہزاریہ سائیکل ،استاد خدا بخش،حاجی محمد مطلوب ، گل محمد پراچہ،ملک قلندر خان،استاد محمد شریف جیسے دردِدل رکھنے والی شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھاکر کے نواب آباد کو کینٹ بورڈ واہ چھاؤنی میں نہ صرف شامل کروایا بلکہ ابن الحسن سید جو اُس وقت مشیر مالیات پی او ایف بورڈ تھے اُن کی خصوصی شفقت اور دلچسپی سے نواب آباد کی تعمیر و ترقی کا آغاز ہوا۔سید ابن الحسن کی مہربانی سے سڑک بن جانے کے بعد نواب آباد مین بازار کا قیام عمل میں آیا آج اس اہم ترین بازار میں سینکڑوں لوگ کاروبار اور روٹی روزی سے وابستہ ہیں ہزاروں لوگ روزانہ اس سڑک کو استعمال کرتے ہیں یقینا یہ فلاحی کام ابن الحسن سید ،ایف ڈی چودھری اور دیگر مرحومین کے لیے صدقہ جاریہ کا باعث ہیں۔نواب آباد کی سماجی شخصیت ٹھیکیدار محمد صابر ان لمحات کے دیدنی گواہ آج بھی ہم میں موجود ہیں اللہ اُن کو صحت و سلامتی سے نوازے(آمین)۔ بات ہو رہی تھی صاحب صدر کے خطاب کی ، محمد اظہار الحق نے نہایت ہی خوبصورت ادبی الفاظ کا قرینہ و سلیقہ سے استعمال کر کے حاضرین کی سماعتوں کو گرمایا بلکہ ڈاکٹر وحید احمد کے متعلق اُنھوں نے کہا کہ ڈاکٹر وحید احمدنے اپنے سرکاری فرائض کی بجا آوری کے ساتھ جو ادبی کوشش کی ہے وہ لائق صد تحسین ہی نہیں بلکہ آپ کی شاعری و نثر گاری میں گندھارا کی دھرتی کا وہ دوراور پس ِ منظرہے جس سے نئی نسل کو آگاہی دینے کی ضرورت ہے،جس طرح سے زندگی کی تلخ تر حقیقت کو اور انسانی نا قدری رشتوں کی نا ہمواری اور بدلتے ہوئے سماجی اور عصر حاضر پر قلم اُٹھایا ہے یہی وصف اُنھیں دوسرے ادباء سے منفرد بناتا ہے اُنھوں نے فانوس تنظیم کے روح رواں محمد عتیق عالم خان،اور ممتاز شاعر محمد مشتاق آثم کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور اپنے خطاب میں امداد آکاش کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں سے بھی حاضرین کو روشناس کروایا ۔مختلف شخصیات نے مہمانان گرامی کو پھول پیش کیے جن میں ملک محمد آصف محمود ،عابد حسین ،مرزا جاوید اقبال،میاں متین اسلم ،شوکت ترین اور طاہر درانی شامل تھے۔قارئین کرام!اردو ادب ہمارا سرمایہ ہے ،ہم اپنے شعراء اور مصنف حضرات کی خدمات پر سلام پیش کرتے ہیں اور اردو ادب ایسی تحریروں سے بھرا پڑا ہے جس کا موضوع معاشرے کی بہتری و بھلائی ہے۔ڈاکٹر وحید احمد کا سارا کلام بھی معاشرے میں سدھار پیدا کرنے کی ایک خوبصورت کاوش ہے۔اور قلم کا صحیح استعمال کرنے کا اُنھوں نے حق ادا کر دیا ہے اب ہم سب پہ یہ لازم ہے کہ ہم اُن کے کلام سے استفادہ کر کے معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈال کر ڈاکٹر وحید احمد کی کوششوں کو زندہ جاوید رکھ سکتے ہیں اور اپنے لیے فلاح کا سامان بھی۔
خصوصی کالم : ادبی تنظیم فانوس کے زیرِاہتمام ڈاکٹر وحید احمد کے ساتھ تقریب ِپزیرائی : عطا الرحمان چوہدری Reviewed by Voice of Taxila News on 19:02:00 Rating: 5

No comments:

All Rights Reserved by Voice of Taxila © 2014 - 2015
Powered By Blogger, Shared by Free WP Themes

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.