Top Ad unit 728 × 90

Smiley face

Latest

recent

خا نپور: تھا نہ خا نپور سے سفارش اور رشوت کے کلچر کا خا تمہ میری اولین تر یج ہےانچارج پو لیس سٹیشن خا نپور خان آفسر خان

خا نپور (وائس آف ٹیکسلا/راجہ محمد طاہر)تھا نہ خا نپور سے سفارش اور رشوت کے کلچر کا خا تمہ میری اولین تر یج ہے دو نمبر لو گوں کی تھا نہ خا نپور میں کو ئی جگہ نہیں تھا نہ خا نپور کی دو پو لیس چو کیوں اور 105گا ئوں پر مشتمل ہے اور نہا یت ہی دشوار گزار اور پہا ڑی علاقہ ہے پو لیس چو کی پنڈ منیم اور پو لیس چو کی مکھنیال تھا نہ خا نپور سمیت دو نوں پو لیس چو کیوں پر پو لیس نفری کی کمی بہت بڑا پرا بم ہے انچارج پو لیس سٹیشن خا نپور خان آفسر خان نے روز نا مہ سرحد نیوز کو اپنا خصو صی انٹر ویو دیتے ہو ئے کہا کہ میرے سمیت ایک ایڈ شنل (ایس آیچ او ) ہے اور ایک (ایے ایس آئی )جب آبادی کے لحا ظ سے کم از کم چار (ایس ایچ او)ہو نے چا ہیے اس کے علا وہ 2ہیڈ کنسٹپل ہیں جبکہ کم از کم 6ہیڈ کنسٹپل ہو نے چا ہیے اس کے علا وہ 28 کنسٹبل ہیں جو کم از کم 40کے قر یب ہو نے چا ہیے تا کہ ہم وقت پر ایک ایمر جنسی کو فیس کر نے میں کا میا ب ہو سکیں اس کے علا وہ ہما رے پاس ایک مو با ئل گا ڑی ہے تھا نہ خا نپور میں دو مو ب ئل گا ڑیاں ہو نی چا ئیے تا کہ ایک پر ہم گشت کو ممکن بنا سکیں اورایک مو با ئل گا ڑی ایمر جنسی کے لیے استعمال کر سکیں تھا نہ خا نپور 105چھو ٹے بڑے گا ئوں پر مشتمل ہے مگر اس میں سہو لتوں کا فقدان ہر وقت اڑے آجا تا ہے جس دن میں نے تھا نہ خا نپور کا چارج لیا ہے اس دن سے میری کو شش رہی ہے کہ تھا نہ خا نپور میں جو شخص بھی آئے اسے انصاف ملے اور اس کے ساتھ ہو نے وا لی ذیا دتی کا ازلہ ہو سکے مگر کچھ لو گ چھو ٹے دل وا لے بھی ہو تے ہیں جو پو لیس کے مملات کو نہ سمجھتے ہو ئے ہا تھ پر سر سوں جما نے کی نا کام کوشش کر تے ہیں ایسے لوگ پو لیس سے دور رہیں تو بہتر ہیں اس کے علا وہ ایک سوال کاجواب دیتے ہو ئے انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ افراد سے میرا کو ئی سمبھو تا نہیں اور نہ ہی ان کے سہو لت کا روں کی تھانہ خا نپور میں کو ئی جگہ ہے ایسے جرائم پیشہ افراد کو میرا پیغام ہے کہ یا تو وہ اپنا دھندا چھوڑ دیں یا میرے تھا نہ کے حدود سے دور چلیں جا ئیں ۔
خا نپور: تھا نہ خا نپور سے سفارش اور رشوت کے کلچر کا خا تمہ میری اولین تر یج ہےانچارج پو لیس سٹیشن خا نپور خان آفسر خان Reviewed by Voice of Taxila News on 18:34:00 Rating: 5

No comments:

All Rights Reserved by Voice of Taxila © 2014 - 2015
Powered By Blogger, Shared by Free WP Themes

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.