Top Ad unit 728 × 90

Smiley face

Latest

recent

خصوصی کالم : اسلام میں عورت کا مقام ، عطاء ُ الرحمن چوہدری

                                      دِل کی باتیں  اسلام میں عورت کا مقام  عطاء ُ الرحمن چوہدری

    اسلام میں عورت کا مقام“ عورت کے اسلام کی نظر میں مقام کے تذکرہ سے قبل ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مختلف مشاہیر کس نظر سے عورت کو دیکھتے ہیں۔ اللہ رب العزت نے عورت کو اس دنیا کی پسندیدہ ترین مخلوق قرار دیا ہے۔ علامہ محمد اقبال شاعر مشرق نے کہا ہے ”عورت الوھی نغمہ ہے جس کی دھن پر کائنات رقصاں ہے“۔
    ؎    وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ         اسی کے ساز سے ملے زندگی کا سوزِ دروں
گولڈ سمتھ نے کہا تھا ”کانٹوں سے بھری ہوئی تاج کتنی تکلیف دہ ہوتی ہے مگر پھول اسے حسن بخش دیتا ہے۔ غریب کا گھر کیسا ہی اجاڑ اور ویران ہو مگر عورت اسے جنت بنا دیتی ہے۔“ ٹیگور کا کہنا ہے کہ عورت ہر شے کو خوبصورت، ہر کام کو دلچسپ اور ہر مقام کو گلزار بنا دیتی ہے اس کے وجود نے اپنے لیے اینٹ گارے اور چونے پتھر سے بھی تاج محل کھڑا کروا لیا ہے۔ قصہ مختصر آغازِ کائنات سے اب تک بے شمار مفکرین، مؤرخین، شعراء، علماء اور صاحبان علم ودانش عورت کی ذات سے متعلق خوبصورت انداز میں اپنے اپنے نقطہ نظر سے اظہارِ خیال کر چکے ہیں۔  لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ظہور اسلام سے قبل عورت کو وہ احترام، تقدس، عزت اور مقام نہیں ملا تھا جس کی وہ مستحق تھی۔ تاہم کسی بھی مذہب یا دور کے لوگ اس کے وجود کی نفی نہ کرسکے۔ عورت جسے خداوندِ قدوس نے آدمؑ کی تنہائی اور اکیلے پن کیلئے بطور ساتھی پیدا کیا اور پھر جنت سے اس دھرتی پر اتار کر انسانی تخلیق کا باعث بنایااسلام کے علاوہ دیگر مذاہب اور اقوام نے عورت کو کبھی نیچمخلوق قرار دیا اور کبھی اسے فساد کی جڑ تصور کرتے ہوئے قابل نفرت سمجھا۔ یونانی کہتے تھے کہ عورت سانپ سے زیادہ خطرناک ہے، سقراط کا کہنا تھا کہ عورت سے زیادہ اور کوئی چیز دنیا میں فتنہ وفساد برپا کرنے والی نہیں۔ وہ ایسا خوشنما درخت ہے جو دیکھنے میں خوبصورت مگر چکھنے میں تلخ وکڑوا ہے۔ یوحنا کا قول ہے کہ ”عورت شر کی بیٹی ہے اور امن سلامتی کی دشمن ہے“ جان ڈسپنس کہتا ہے کہ ”عورت کذب کی بیٹی، دوزخ کی رکھوالی اور امن کی دشمن ہے۔“ عیسائیوں کی سب سے بڑی حکومت روحۃ الکبریٰ میں عورتوں کی حالت لونڈیوں سے بدتر تھی۔ ان سے جانوروں کی طرح کام لیا جاتا تھا۔ سولہویں صدی میں جادو سے نفرت کی تحریک چلی تو ہزاروں عورتوں پر جادو کا الزام لگا کر انہیں قتل کردیا گیا۔ رومن کھتیولک فرقہ کی تعلیمات کی رُو سے عورت مقدس کتاب کو چھو نہیں سکتی اور گرجے میں داخل نہیں ہوسکتی۔ دورِ جہالت میں عرب لڑکی کے پیدا ہوتے ہی اسے زندہ دفن کردیتے، ایک عورت کو جائیداد کی طرح دوسرے کو منتقل کرنے کا رواج بھی تھا۔ ہندو مذہب میں مرد کے ساتھ عورت کو بھی چتا میں جلنا پڑتا تھا۔ اسے خاوند کے بعد زندہ رہنے کاکوئی حق نہیں تھا۔ گویا عورت کو اسلام سے پہلے معاشرہ کوئی باعزت مقام نہیں دیتا تھا۔ بلکہ مختلف طریقوں سے اس کی تذلیل و توہین کی جاتی تھی۔  دین محمدیﷺ ومصطفویﷺ کی ترویج وترقی کے ساتھ جہاں کئی پسے طبقوں کو احترام کا مقام ملا وہاں عورت، جو صدیوں سے مقہور اور مجبور زندگی بسر کر رہی تھی، کو بھی ارفع واعلیٰ مقام ملا۔ حضور اکرمﷺ نے عورت کو مرد کے برابر عزت دی اور ماں کے درجے میں آکر مردوں سے تین گنا زیادہ مرتبہ دیا۔ فرمان نبویﷺ ہے کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔ قرآن حکیم میں عورت کے لیے اعلان کیا گیا کہ ”عورتوں کے ایسے ہی حقوق ہیں مردوں پر، جیسے مردوں کے حقوق عورتوں پر ہیں۔“ دو مختلف مقامات میں جب آپﷺ کی رضاعی بہن اور حاتم طائی کی بیٹی سفانہ قیدی کی حیثیت سے آپ کے پاس پہنچیں تو حضور نبی کریمﷺ نے نہ صرف انہیں احترام کے ساتھ آزادی عطا کی بلکہ انہیں یہ اعزاز بھی بخشا کہ ان کی سفارش پر ان کے قبیلوں کو رہائی دے کر آزاد کیا گیا۔ حضورﷺ نے بذات خود گھر کے کاموں میں امہات المؤمنین کا ہاتھ بٹا کر قیامت تک کیلئے عورت کو اعلیٰ مقام پر فائز کردیا۔ اسلام عورت کو ہر قسم کی آزادی دیتا ہے۔ اس کی صلاحیت کی قدر کرتا ہے۔ مگر حجاب و احساس عفت کی شرط کے ساتھ۔
اسلام نے عورت پر سب سے بڑا احسان یہ کیا ہے کہ اس نے ان کی حثیت جو کہ رومیوں، یونانیوں، بابلیوں اور قدیم عیسائیوں کے زیرِ اثر کمتر چلی آرہی تھیں، کا مکمل خاتمہ کیا۔ سب سے پہلے اسلام نے عورت کی انسانی حیثیت کو واضح کیا کہ عورت اپنی آدمیت اور انسانیت میں ناقص نہیں کامل واکمل ہے۔ قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: کہ ہم نے سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔  اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جہاں ماں کی خدمت کو جہاد پر ترجیح دی گئی۔ بیویوں کے بارے میں کہا گیا کہ خانہ آبادی کی بنیاد میں اور رزق ان کے نیک قوموں سے بڑھتا ہے۔ گویا عورت کے ساتھ مرد کے جتنے بھی رشتے ہو گئے ہیں اسلام ہی نے سب میں عظمت ومحبت کی شان پیدا کی۔ یعنی ان کو ماں، بہن، بیوی، بیٹی کا معزز مقام دے کر نہ صرف اس کا تقدس بحال کیا بلکہ معاشرے کی سب سے معزز ترین مخلوق قرار دیا۔
            ؎    جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا    اس قوم کا خورشید بہت جلد زرد ہوا اقبال
قارئین کرام!  آج ہماری یہ صنفِ نازک مغربی ثقافت کی یلغار میں جس طرح سے کھو چکی ہے، فحاشی، عریانی، بے حیائی کا سبب بن رہی ہے، ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی اولادوں کی تربیت ایسے خطوط پر کریں کہ ہماری بیٹیاں، بہنیں اور مائیں جن مغربی ضابطوں پر فخر کر رہی ہیں وہ فلاح کا راستہ نہیں بلکہ سیدھا جہنم کی طرف لے جانے والا ہے۔ اور اس راستے سے ہم نے قرآنی تعلیمات اور سنت نبویﷺ سے آگاہی دے کر اور راہنمائی لے کر اپنے خوبصورت رشتوں کے تقدسد کو پامال ہونے سے بچانا ہے۔
 اسلام زندہ باد۔ پاکستان پائندہ باد
خصوصی کالم : اسلام میں عورت کا مقام ، عطاء ُ الرحمن چوہدری Reviewed by Voice of Taxila News on 00:34:00 Rating: 5

No comments:

All Rights Reserved by Voice of Taxila © 2014 - 2015
Powered By Blogger, Shared by Free WP Themes

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.