Top Ad unit 728 × 90

Smiley face

Latest

recent

مائیں راہ تکتی رہ گئیں، سکول سے لوٹنےوالےجنت میں جا پہنچے -- دل کی باتیں -- عطاء ُ الرحمن چوہدری



دِل کی باتیں : مائیں راہ تکتی رہ گئیں،  بچے سکول سے جنت چلے گئے      عطاء ُ الرحمن چوہدری  

     16دسمبر کا دن پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن ہے جب 1971؁ء میں سقوطِ ڈھاکہ کا واقعہ پیش آیا اور ہمارا آدھا ملک بھارت نے اپنی عیاری و چالاکی اور بد نیتی کی بھینٹ چڑھا دیا اور پھر 16دسمبر 2014؁ء کو اسلام دشمن طاقتوں نے اُس بر بریت کا مظاہرہ کیا کہ لوگ ہلاکو خان اور چنگیز خان جیسے درندہ صفت لوگوں کی درندگی کو بھول گئے اُس روز مائیں دروازے تکتے رہ گئیں اور بچے جنت چلے گئے ۔تحریک طالبان پاکستان نے پشاور شہر کی ممتاز علمی درسگاہ آرمی پبلک سکول پر اپنی دہشت گردانہ کاروائی کرتے ہوئے 141معصوم جانوں کو شہادت کے عظیم منصب پر پہنچایاان شہداء میں 132معصوم طلباء نے بھی اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی اور شہداء میں درسگاہ کی پرنسپل طاہرہ قاضی ، ٹیچر افشاں احمداورٹیچر سعدیہ گل،خواتین و مرد سٹاف نے بھی شہادت جیسی عظیم منزل کو پا لیا۔حملہ آوروں کی تعداد سات تھی ان حملہ آوروں میں ایک چیچنتین عرب اوردو افغان بد بخت لعنتی کردار بھی شامل تھے۔ہماری بہادر مسلح افواج کے اُس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی ہدایت پہ پاک آرمی کی فوج کے دستہ سپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی)نے فوری کاروائی کرتے ہوئے اُن تمام دہشت گردوں کو نہ صرف واصل جہنم کیا بلکہ 960معصوم جانوں جن میں طلباء ،اساتذہ اور دیگر سٹاف شامل تھا اُسے بحفاظت دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے سے بچا کر اپنے فرائض منصبی کی کما حقہ تکمیل کرتے ہوئے اپنے پیشے سے انصاف اور قوم کی جانب سے تحسین و آفرین کے کلمات اور دعائیں لیں۔
قارئین کرام!16دسمبر2014؁ء کو خون کی ایسی ہولی کھیلی گئی جس کے چھینٹے ہر ماں کے دامن پہ جا گرے جہاد کے نام پہ اس دہشت گردی نے معصوم فرشتوں کوموت کا سامنا اتنے قریب سے کرایا کہ وہ بچے شاہد ہی اس خوف اور ڈر سے با ہر نکل سکیں جنھوں نے اپنے سامنے اپنے پیارے پیارے بہن بھائیوں اور اساتذہ کو آگ میں زندہ جلتے ہوئے دیکھا ۔ان کی ٹیچرز اور ان کے عزیز دوستوں کو ایسی درد ناک موت کے گھاٹ اتارا گیا کہ کائنات کہ ہر شے تڑپ اُٹھی اُن مائوں پہ کیا بیتی جنہوں نے صبح اپنے لا ڈلوں اور دلا روں کو اپنی دعائوں کے ساتھ سکول رخصت کیامگر کچھ ہی دیر کے بعد اُن کے بچے اُن کو کفن میں لپٹے ہوئے ملے اُن معصوم بچوں کا کیا قصور تھا؟اُن معصوم شہداء کے دلوں پہ اُس لمحے گزرتا وہ خوف سوچ کر ہر دل سے آھیں نکلیں اور ہر پاکستانی ،دنیا بھر کے صاحب ِ ایمان اور دردِ دل رکھنے والی آنکھ نم ہوئی۔آرمی پبلک سکول کی کلاسز میں بکھرے طلباء کے ننھے جوتے ،کتابیں اور ٹفن اس بات کا ثبوت ہیں کہ اپنی معصوم جانوں کو بچانے کے لیے ان معصوم فرشتوں نے کس حد تک کوشش کی۔اُن مائوں کوتو صبر آ ہی گیا جنہوں نے اپنے بچوں کو آخری سفر کے لیے رخصت کیا مگر اُن مائوں کا حال پھر بھی کیا ہو گا جن کو اپنے بچوں کا آخری دیدار بھی نصیب نہ ہوا۔اتنی بے دردی سے کوئی جانور ہی کرتا ہے ایسا سلوک ، جیسے ان ہمارے معصوم فرشتوں کے ساتھ کیا گیاان دہشت گردوں اور اُن کے سر پرستوں کو کم از کم انسان کہنا بھی انسانیت کی توہین ہے۔
قارئین کرام!ان معصوم طلباء اور شہداء کی فیملیز سے اظہار تعزیت اور اُن کے حوصلوں کو سلام پیش کرنے کے لیے دی فائونڈرز ایجوکیشن سوسائٹی ٹیکسلا اور گندھارا یوتھ فورم ٹیکسلا نے باہمی اشتراک سے ایک خوبصورت دعائیہ تقریب ’’بعنوان ہم زندہ ہیں‘‘کا اہتمام کیا۔پشاور سے شہداء کے خاندانوں کے با جرأت و باہمت خواتین و حضرات اور پیرو جوان جب احاطہ ٹیکسلا میں شہدائے ایکشن فورم کے سربراہ محترم عابد رضا بنگش کی قیادت میں تشریف لائے تو راقم اور دی فائونڈرز کے سٹاف ممبران زاہد رفیق اور میڈم سعیدہ رحمان اورطلباء و طالبات نے نہایت ہی گرم جوشی سے اپنے معزز مہمانوں کو پھولوں کے گجرے اور پتیاں نچھاور کر کے خوش آمدیدکہا۔تقریب کے مہمانانِ گرامی میںسابق وفاقی وزیرو ممبر قومی ا سمبلی حاجی غلام سرور خان اور وطن ِعزیز کی خاطر وادی تیراہ میں جامِ شہادت نوش کرنے والے عظیم سپاہی بریگیڈئیر حسین عباس شہید کی والدہ محترمہ دُرِشہوار ،ڈاکٹر محمد ادریس شہزاد چیف سائنٹسٹ کے ۔آر۔ ایل اور شہید پاکستان اعتزاز حسن شہید ِکے برادرِاکبر،غلام مجتبیٰ خان آف ہنگو اور سانحہ پشاور میں شہید ہونے والے طالب علم اسفند زیب کی والدہ محترمہ شاہینہ اجون شامل تھیں ۔جبکہ اس باوقار تقریب کی صدارت وطن عزیز کے نامور ادیب کالم نگار اور ماہرِ اقبالیات و صحافی جناب ڈاکٹر زاہد حسن چغتائی نے فرمائی۔تقریب میں علاقہ بھر کے ہر خاص و عام کو دعوت دی گئی تھی لیکن عمائدین علاقہ میں چودھری ظہیر اختر،ملک ایاز محمود ،حاجی محمد جان کویتی،اجمل خان تنولی،نثار احمدآف گڑھی حیات،عمران خان،حاجی محمد حنیف،ممتاز خان ،آغا عظمت نقوی ، محمد رفیق کونسلرکے علاوہ سکول کے طلباء اُن کے والدین بالخصوص خواتین کی ایک بڑی تعداد نے ملی و مذہبی جوش وخروش سے شرکت کر کے اپنی شعوری بیداری کا ثبوت دیا اور نجی تعلیمی اداروں کے سر براہان امجد خان،چودھری صفدر حسین،صابر جمیل اعوان،علامہ اقبال پبلک سکول ،العزیز کلاسک سکول اور فیڈرل سائنس سکول کے اساتذہ محترمہ سمیرا گل اور مسز ثاقب خان کی سر براہی میں شرکت کی ڈاکٹر سید اسد علی،راجہ نور محمد نظامی بھی تقریب میں رونق افروز رہے گندھارا یُوتھ فورم کیصدر ہر دلعزیز سماجی و ادبی شخصیت سید محمود علی نقی نے استقبالیہ کلمات کے بعد شہداء کے اہل ِ خانہ کو اہلیان پنج کھٹہ بالخصوص تربیلا کالونی کی عوام کی جانب سے خوش آمدیدکہا۔تلاوت ،نعت رسول مقبول ﷺ کے بعد واہ چھاونی اور ٹیکسلا کے جملہ تعلیمی اداروں کی نمائندگی کرتے ہوئے العزیز کلاسک سکول ٹیکسلا کینٹ کی طالبات نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا دی فائونڈرز پری کیڈٹ سکول اور دی فائونڈرز گرلز سکینڈری سکول کے طلباء نے سانحہ پشاور کے حوالہ سے تیار کردہ خصوصی ٹیبلو پیش کر کے اپنے معصوم شہداء کو خراج ِ تحسین پیش کیا اور ہر آنکھ کو اشک بار کر دیا۔نمایاں طلباء میں علینہ بی بی،ثمرہ ساجد،عمر ظہیر،عبداللہ،افضال احمد،لائبہ سلیم ،رابعہ سلیم،فرحان نثار،ثقلین علی شامل تھے ننھی مقررہ خدیجہ نور نے اپنے شہداء بھائیوں کے حضور منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ عبدالرحمن نے ’’بڑا دشمن بنا پھرتا ہے ‘‘ترانہ خوبصورت انداز میں پیش کیا۔عبدالحسیب اور عائشہ جاوید،میمونہ شفقت نے ’’ہم نے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے‘‘پیش کر کے خوب داد پائی۔ آنسہ شاھانہ انجم ، آغا سید عظمت علی ،ڈاکٹر محمد ادریس ،محترم ڈاکٹر سید اسد علی،طاہر محمود دُرانی اور راقم کے علاوہ محترمہ دُرِشہوار نے بھی آرمی پبلک سکول کے شہداء کو خراجِ تحسین اور اُن کے پسماندگان کے حوصلے و جرأت کو داد دیتے ہوئے کہا کہ بلا شبہ آپ کے بچے سکول سے سیدھے جنت میں چلے گئے لیکن وہ پوری قوم کو متحد کرنے کا سبب بنے ہم آپ کے حوصلوں کو داد دیتے ہیں اور وطن ِ عزیز کا ہر بچہ ،عور ت و مرد ،پیروجوان آپ کے بچوں کی قربانی و بہادری پہ آپ کو سلام پیش کرتا ہے۔شہید رفیق رضا بنگش کے والد محترم اور شہداء ایکشن فورم کے چیئرمین عابد رضا بنگش اور شہید اسفند زیب کی والدہ نے اپنے بچوں کی شہادت پر کہا کہ ہمارے بچے تو انسانیت کے قاتلوں کی نذر ہوئے لیکن ہمیں فخرہے کہ وہ ہمیں ایسے آنسو دے گئے ہیں جو ہماری کمزوری نہیں بلکہ اس ملک کی طاقت ہیں اور ہمارے بچے تو زندہ جاوید ہیں کیونکہ بحیثیت مسلمان ہمارا یہ ایمان ہے کہ’’اللہ تعالیٰ کی راہ میں مارے جانے والوں کو مردہ مت کہیے وہ تو زندہ ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ‘‘۔ مہمانِ خصوصی حاجی غلام سرور خان سابق وفاقی وزیر و ممبر قومی اسمبلی نے منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے شہداء کے والدین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ اُن پھولوں کے وارث ہیں جنہوں نے اپنا خونِ جگر پیش کر کے پوری پاکستان قوم کو یہ پیغام دے گئے ہیں کہ اس ملک کے بڑے تو بڑے وطن ِ عزیز کی آن و شان اور بقاء کے لیے ہر بچہ وقت آنے پر اپنے خون کا نذرانہ پیش کرے گا اور پوری قوم کو ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا کر ٹیپو سلطان کے اس قول’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی صد سالہ زندگی سے بہتر ہے‘‘ اور دشمن کو یہ پیغام دے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے اُنھوں نے مزید کہا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے تک نیشنل ایکشن پروگرام اور ضرب عضب کو جاری رہنا چاہیے حکومت کے اتحادی اور مشیروں کے بیانات دہشت گردوں کے عزائم کو حوصلہ دے رہے ہیں سرکار کے مشیر و وزیر اور اُن کے اتحادیوں کے شدو مد سے بیانات آ رہے ہیں کہ نیشنل ایکشن پروگرام اور ضرب عضب کو مختصر کیا جائے۔ اُنھوں نے کہا کہ سندھ ،بلوچستان اور کے پی کے میں تو نیشنل ایکشن پروگرام پر عمل درآمد ہو رہا ہے تو پھر پنجاب میں ایسا کیوں نہیں کیا جا رہا؟ پنجاب میں دہشت گردوں کہ نرسریاں ذمہ داران کو کیوں نہیں نظر آتیں اُنھوں نے کہا کہ جو لوگ دہشت گردوں کے خلاف جاری کاروائیوں کو روکنے کی بات کرتے ہیں دراصل یہی لوگ اُن دہشت گردوں کے سرپرست ہیںاُنھوں نے سانحہ پشاور کے بچوں کے والدین کے حوصلے اور جرأت کو خراج ِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ’’ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے‘‘۔ ممتاز کالم نگار،ماہر ِ اقبالیات، ادیب و صدر تقریب ڈاکٹرزاہد حسن چغتائی نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ ٹیکسلا سنگ تراشوں کا دیس ہے اور اس دیس کے اندر عطاء الرحمان چوہدری اور اُن کے معاونین ’’سنگ دل‘‘دلوںکو علم کے زیور سے آراستہ و پیراستہ کر کے جو علمی خدمت سر انجام دے رہے ہیں اُس پہ نہ صرف وہ ٹیکسلا بلکہ ڈویثرن بھر میں اپنی ایک خاص پہچان اور قدر و منزلت رکھتے ہیں آج کی اس تقریب کا انعقاد کر کے شہداء سے اپنی وابستگی اور قلبی اظہار میں دوسروں پہ سبقت لیتے ہوئے ٹیکسلا کے لوگوں کی جانب سے مہمان نوازی اور زندہ دلی کی درخشندہ مثال قائم کی ہے جو ایک قابل تقلید نمونہ ہے اُنھوں نے کہا کہ ہمارے ننھے منے معصوم طلباء کو دہشت گرد اپنی بر بریت کا نشانہ بنا رہے تھے اور وہ انکل انکل کہہ کر اُنھیں پکار رہے تھے۔          ؎       یہ مکتب کی کرامت تھی یا فیضان نظر ہے    سکھائے کس نے اسماعیل ؑ کو آداب فرزندگی
یقیناہمارے وہ معصوم شہید عظمت کا وہ شاہکار ہیں جو اپنے لہو سے پورے پاکستان کے ذرے ذرے کو حُسن و رعنائی عطاء کر گئے اور رزم گاہ ہستی میں اپنے لہو سے ایسے دیپ روشن کر گئے ہیں کہ اُن کی لو سے ہزاروں چراغ جل اُٹھیں گے اُنھوں نے کہا کہ ہمارے مہکتے گلابوں نے بدروحنین اور کربلا کی یاد کو تازہ کیااُنھوں نے والدین سے کہا کہ آپ بڑے خوش نصیب ہیںآپ شہداء کے وارث ہیں آپ پاکستان کے محافظ ہیںہمارے اُن معصوموں نے بلالؓ اورخبیبؓ  کی سنت کو ادا کیا ہے ہمارے اُن نو نہالوں نے سمعیہ ؓ کی طرح اپنے اجسام کے ٹکڑے کرائے ہمارے اُن پھولوں نے امام ابو حنیفہؒ کی یاد کو تازہ کیا جن کا جنازہ جبل سے اُٹھا تھا اور اما م احمد بن جنبل کو کوڑے بھی تو اسی باداش میں مارے گئے تھے کہ وہ حق بات کرتے نہیں تھکتے تھے ۔ہمارے بچے صلاح الدین ایوبی کی طرح لڑے اور محمد بن قاسم کی طرح اپنی جوانی حق کے لیے لٹائی اُنھوں نے کہا کہ 16دسمبر2014؁ء کو شہید ہونے والے معصوم آج پوری قوم کے دلوں پہ حکمرانی کر رہے ہیں ۔ راقم نے شہید زین اقبال کے والد محترم، شہید وہاب الدین کی والدہ گرامی،شیخ اسامہ طاہر اعوان کے والد محترم ،شہید محمدشہیر خان کے والد گرامی،شہید حسن زیب کے اہل کُنبہ، شہیدایمن خان کے والد گرامی،دو شہید بھائیوں سیف اللہ درانی اور شہید نور اللہ درانی کے والد محترم تحسین اللہ درانی، شہید ٹیچر سعدیہ گل کے والدگل شہزاد خٹک ،شہید محمد غسان خان کے اہل خانہ کے دکھ اور کرب کو بہت ہی قریب سے محسوس کیا۔ آئیے آپ اور میں ملکر ایک لمحے کے لیے اُن شہیدوں کے والدین بن کر سوچیں ؟کہ یہ والدین اپنے جگر گوشوں کے بغیر زندگی تو گزار رہے ہیں ؟بے پھیکی اور بے رونق زندگی؟جہاں اُن کے آنگنوں میں ۲ سال پہلے بچوں کی معصوم ادائیں ،معصوم مطالبات،معصوم خواہشات،معصوم شرارتیںزندگی میںرنگینیا ں بکھیر رہی تھیںآج وہاں اداسی ،غم ،بیچینی اور بے بسی اور گھر ویران ہیں کیا اُن والدین کو ان ۲ ،دوسالوں میں ایک پل بھی قرار آیا ہوگا یہ لمحات وہ کیسے گزارتے ہونگے؟
گویا اِن تقریبات کا انعقادکر لینا والدین کی ہمت و ڈھارس بڑھانے کے مترادف تو ضرور ہے لیکن اُن کے غموں کا مداوا تو کوئی نہیں کر سکتا۔اُن معصوم پیارے بچوں کی یادوں میں رات بھر لیٹ کر آنسو بہانے کا مقدر بنانے والی وہ کونسی قوتیں ہیں ؟اُ ن قوتوںکے خاتمے کے لیے جب ہمارے پالیسی ساز اور اسمبلیوں میں غریب عوام کی دولت پہ عیاشی کرنے والے صاحبان اقتدار سر جوڑتے ہیں تو اُنھیں کیوں نہ اپنا آقا حضرت محمد مصطفیﷺ کا فرمان’’تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو علم سیکھے اور دوسروں کو سکھلائے ‘‘کیوں نہیں یاد آتا کیوں نہ قیام پاکستان سے اب تک فروغ تعلیم اُن کی ترجیحات کا حصہ بنی؟ایماندارانہ طریق سے تعلیم کے فروغ کے لیے اگر کچھ کیا ہوتا تو آج یہ متشددانہ قوتیں اور دہشتگردوں کی جنت پاکستان نہ ہوتا۔ہمارے پالیسی سازوں کو اگر مغربی دنیا کی تقلید کرنا ہی اچھا لگتا ہے تو ایک غیر مسلم راہنما نیلسن منڈیلا ہی کے قول ’’دہشت گردی کیسامنے بند باندھنے کے لیے سب سے مؤثر ہتھیار تعلیم ہے ‘‘اپنا لینا چائیے۔اس وطن عزیز کی اللہ تعالیٰ ہی حفاظت فرما رہا ہے وگرنہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک اس وطن کے ضمیر فروش ، ایمان فروش ،سیاسی ،سماجی،مذہبی ۔علمی و ادبی ٹھیکیداروں اور غریب عوام کے لہو فروشوں نے جس بُری طرح اس ملک کو اپنے ذاتی مفاد ات کی تکمیل کے لیے استعمال کیا ہے اُس سے چھٹکارا پانے کے لیے صرف اور صرف علم کی روشنی ہی بہترین ہتھیار ہو گی۔ یہ خوبصورت اور باوقار تقریب قاری حبیب الرحمان چوہدری کی دعائے خیر اور قومی ترانے سے اختتام پذیر ہوئی۔
                         شہدائے اسلام زندہ باد    پاکستان پائندہ باد
مائیں راہ تکتی رہ گئیں، سکول سے لوٹنےوالےجنت میں جا پہنچے -- دل کی باتیں -- عطاء ُ الرحمن چوہدری Reviewed by Voice of Taxila News on 23:32:00 Rating: 5

No comments:

All Rights Reserved by Voice of Taxila © 2014 - 2015
Powered By Blogger, Shared by Free WP Themes

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.