Top Ad unit 728 × 90

Smiley face

Latest

recent

خصوصی کالم : 'واہ کا محبوب' ---- ازعطاءالرحمن چوہدری آف ٹیکسلا


                                                                 واہ کامحبوب                عطاء ُ الرحمن چوہدری  آف ٹیکسلا      
     روز قیام سے پاکستان جن مسائل کا شکار رہا ہے اُس میں ہمارا شعبہ تعلیم یعنی نظام تعلیم بھی بنیادی مسائل میں سے ایک ہے اور یہ مسئلہ آج سات دھائیاں گزرنے کے باوجود بھی نہ صرف جوں کا توں ہے بلکہ ہماری بد قسمتی اور بد بختی دیکھیے کہ نظام تعلیم بھی حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ ہی تبدیل کیا جاتا رہا ۔جس کے اثرات نہ صرف طلباء پر پڑے بلکہ ہماری کئی نسلیں اور ہمارے اساتذہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے جسکے اثرات آج پورے معاشرے میں اس طرح سے دکھائی دیتے ہیں کہ ہمارے ماسٹر لیول کے طالب علم کو نظریہ پاکستان کی الف،بیعنی حروف ابجدسے بھی روشناسی نہیںظاہر ہے کہ اس نسل نے آگے آکر ملک و ملت کے لیے جو کچھ کیا یا کر پا رہے ہیں وہ قابل ِذکر اور قابل ِفخر داستان حقیقت نہ ہے جمہوری حکومتوں نے جہاں تعلیم کی آڑ میں اپنے سیاسی بونوں کو نوازنے کے لیے پُر کشش کاغذی سکیموں میں اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ کر کے آئی۔ایم۔ایف۔یو ایس ایڈ یونیسیف اور دیگر جہاں بین الاقوامی ڈونرز سے فنڈ ز کوبٹورکر شیر ِ ِ مادر سمجھ کر ہڑپ کیا اور مجموعی ملکی خواندگی کو 55% کاغذی حساب کتاب میں دکھا  کر اپنے فرائض سے پہلو تہی کی ہے اب تک وطن عزیز کے کم و بیش ۳ کروڑ بچوں نے سکول نام کی کوئی چیزہی نہیںدیکھی ہے۔ خواندگی کا معیار اگر دیکھنا ہو تو ہمارے میڑک پاس طالب علم کی حالت یہ ہے  کہ اُسے ضلع کے سربراہ اور اُسکی ذمہ داریوں تک کا پتہ نہ ہے انگریزی تو کجا اردو میں بھی صحیح درخواست لکھ نہیں پاتا ۔پاکستان کے پڑوسی ممالک کے نام بتانے کا کہہ دیں تو جواب آپ کونفی میں ملے گا کیا وجہ ہے؟ آج پاکستان میں سرکاری سکولز کا انفراسٹرکچر بہتر ہو سکا اور نہ ہی جمہوری اور فلاحی حکومتوں نے کبھی نجی شعبہ کو وہ مقام دیا جسکے وہ حقیقی معنوں میں حقدار بھی ہیں سرکاری سکولز کی کارکردگی کو مانیٹر کرنا اور ریاست کے عوام اور اُن کے بچوں کو تعلیم اور صحت کے بنیادی انسانی حق سے آج تک کیوں محروم رکھا ہوا ہے۔بجٹ میں اربوں روپے کی خطیر رقم کو زمینی حقائق کے عین مطابق کیوں نہ خرچ کیا گیا؟ بہر کیف پرائیویٹ سیکٹر اگر نہ ہوتا تو آج ہماری خواندگی کا گراف دنیا کے ممالک میں آخر سے ٹاپ پہ ہوتا البتہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے جہاں پر بہت اچھا کام کر رہے ہیں وہاں پر گلی محلوںمیں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی یلغار اور ایک فیشن نے کھمبیاں کی طرح اُگ کر تعلیم کے نام پہ جو نئی نسل کی بربادی کا باعث بن رہی ہے ان اداروں میں تعلیم و تربیت کا فقدان اور اناڑی تعلیم کے کھلاڑی بنے ہوئے ہیں۔ بچوں کو رٹو طوطا تو بنایا جا رہا ہے لیکن اُن کی تربیت کرنے والوں کی اپنی تربیت کی ضرورت ہے کیونکہ تربیت کے فقدان کی وجہ سے یہ تعلیمی دکانیں نئی نسل کی بربادی کا وہ سامان ہیں جہاں پہ ان پڑھ والدین اپنے خون پسینے کی کمائی صرف کرتے ہوئے اپنے روشن مستقبل کو تباہی و بربادی کے دہانہ میں خود جھونکے ہوئے ہیں۔ یہ امر ذمہ دران اور پالیسی ساز اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے؟ایسے اداروں کا چیک اینڈ بیلنس رکھنا کس کی ذمہ داری ہے؟  واہ چھاونی کے وہ عظیم مرحوم اور موجودہ زمانہ کے اساتذہ قابلِ فخر ہیں جنھو ں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق تعلیم و تربیت کا ایسا فریضہ سر انجام دیا کہ واہ چھاونی کو نہ صرف تعلیمی لحاظ سے ایجوکیشن سٹی کہلوایا بلکہ اپنی تعلیم و تربیت سے ایسے ایسے نگینے تراشے جنہوں نے استحکام پاکستان اور اسکی سا  لمیت میں اپنا احسن طریق سے کردار ادا کرتے ہوئے اپنے شہر اور خاموش مجاہدین کی بستی واہ چھاونی کو ہمیشہ واہ واہ ہی کے القابات سے ہر خاص و عام سے کہلوایا۔واہ چھاونی نہ صرف علم و ادب کے باسیوں کا مسکن ہے بلکہ یہاں کے صحافی،ادیب ،شعرائ،وکلاء ،اساتذہ ،طلباء ہر خاص و عام نے اپنے شہر کی روایات کو زندہ جاوید رکھا ہوا ہے۔واہ چھاونی نے ایسے شہدائے وطن بھی پیش کیے جنہوں نے اپنا خون جگر ہمارے بہتر کل کے لیے اس مادر ِعظیم پہ قربان کر دیا جن میں کیپٹن ناصر حمید شہید، کیپٹن عمر فاروق شہید ، کیپٹن جمیل احمد شہید، میجر عبدالواب شہید، بریگیڈیر حسین عباس شہیدنمایاں نام ہیں اسی شہرمیں جہاں بہت سارے قابل ِفخر تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں اُن میں ایک ادارہ واہ کالج آف اکائو نٹنسی اینڈ مینجمنٹ سائنسز کا بھی ہے جسے نوجوان ماہر تعلیم جناب خالد محبوب ایڈوکیٹ پچھلی ایک دہائی سے اپنے خون جگر کو صرف کرتے ہوئے ایک مشن کے تحت فروغ ِ تعلیم کے لیے کوشاں ہیں۔اُن کے کالج میںانٹر میڈیٹ سطح سے لیکر ایم فل تک مختلف کورسز کے ذریعے طلباء و طالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کرکے بہترین شہری اور محب وطن پاکستانی بنایا جا رہا ہے ۔کالج کی عمارات فرنیچر،جدیدلیبارٹریز،لائبریری اور آئی ٹی لیبز اور تعلیم یافتہ سٹاف اس بات کی نشاند ہی کرتاہے کہ طلباء کو عصری تقاضوں کے عین مطابق تعلیم دی جا رہی ہے گذشتہ روز اُن کے کالج کی طالبات نے ایک خوبصورت تقریب کا انعقاد کیا اس تقریب میں طالبات نے ملی  نغمے،خاکے، ترانے،ٹیبلوز پیش کر کے اس پیغام کو اجاگر کیا کہ وطن عزیز کی تعمیر و ترقی کے لیے تعلیم ہی سب سے موثر ہتھیار ہے۔ جس وقت تک وطن عزیز کی ہر بیٹی،ہر بچہ پڑھ لکھ نہیں پاتا اُس وقت تک غربت ،افلاس ، جہالت ، بے حیائی،عریانی،فحاشی،انتہا پسندی اور دہشت گردی کے بادل اہلیان پاکستان کے سر پر منڈلاتے رہیں گے۔ کالج کی طالبات نے اپنے بہترین تعلیمی نتائج پر اپنے اساتذہ بالخصوص عمر فاروق ،محمد احسان، امجد شہزاد ، ثقلین کاظمی، حمیرا شیخ، کوثر اقبال، میڈم انعم، میڈمسحر الطاف، میڈمطیبہ ، میڈم زیتون ، میڈم شگفتہ اور دیگر سٹاف کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس امر کا اعادہ کیا کہ ہم بیٹیاں بھی اپنے شہر واہ چھاونی کی تعلیمی ترقی میں مستقبل قریب میں اہم کردار ادا کریں گی اور اپنے بھائیوں سے نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں کسی طرح بھی پیچھے نہ ہیں اور اس وقت بھی کالج کی طالبات نے اپنی محنت اور لگن سے اپنے اساتذہ کی رہنمائی میںواہ چھاؤنی کے تمام تعلیمی اداروں میں شاندار نتائج دے کر اپنے کالج کی روایات کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ کالج کے ڈائریکٹر نہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں بلکہ بنیادی طور پر وکیل ہیں بانی پاکستان  قائد اعظم محمد علی جناح ؒکے ہم پیشہ اور ہم سوچ ہونے کی وجہ سے بہت کچھ کرنے کے خواب سجائے ہوئے ہیںخُدا کرے کہ اس نوجوان کی پُر خلوص کاوشوں کو اللہ رب العزت اپنے حضور قبول کرتے ہوئے اس امر کی توفیق عطاء فرمائیں کہ وہ نہ صرف واہ چھاونی کے طلباء اور اُن کے والدین کے محبوب بنیں بلکہ واہ چھاونی سے ہٹ کرقرب و جوار کی مضافاتی آبادیوں کے بچے/بچیاں جو وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اپنے ٹیلنٹ کو ضائع کر رہے ہیں اُن کے لیے بھی تعلیمی میدان میں کام کرنے کی توفیق و ہمت سے نوازیں اور راقم کی یہ دعا ہے کہ واہ کالج آف اکائوٹنسی اینڈ مینجمنٹ سائنسز جیسے ادارے ملک کے طول و عرض میں قائم ہو کر معاشرے کو جہالت کے اندھیروں سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کرکے ایسی نسل تیار کرے جو اس مملکت پاکستان کی بہتر سے بہتر انداز میں خدمات سر انجام دے سکیں۔راقم  دعاگو ہے کہ وہ دن ضرور آئے جب خالد محبوب کی خدمات کا دائرہ کار اتنا وسیع ہو جائے کہ وہ فروغ تعلیم میں اپنے معیار و مقاصد کے لحاظ سے حقیقی استاد بن کر ’’ہر خاص و عام کا محبوب بن جائے‘‘۔
خصوصی کالم : 'واہ کا محبوب' ---- ازعطاءالرحمن چوہدری آف ٹیکسلا Reviewed by Voice of Taxila News on 23:56:00 Rating: 5

No comments:

All Rights Reserved by Voice of Taxila © 2014 - 2015
Powered By Blogger, Shared by Free WP Themes

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.