Top Ad unit 728 × 90

Smiley face

Latest

recent

ٹیکسلا ، نواب آباد اوور ہیڈ پل ٹوٹ گیا ٹریفک جام۔۔۔

ٹیکسلا(نامہ نگار)واہ کینٹ نواب آباد جی ٹی روڈ پر سے زیادہ اونچائی کی گاڑی گزرنے سے لوہے کا بنا اوور ہیڈ برج ٹوٹ گیا مواصلاتی نظام درہم برہم ، موٹر ویے پولیس موقع پر پہنچ گئی تاہم کو جانی نقصان نہیں ، موٹر وے پولیس اور علاقہ کی سیاسی شخصیات نے اسے این ایچ کی غفلت قرار دیا ، موٹروے پولیس نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ اوورہیڈ برج پر واضح طور پر ہائٹ کے بورد آویزاں ہونے چاہئے جو کہ یہاں نہیں تھے جبکہ جن پلرز ]پر اوور ہیڈ برج کھڑ اتھا اسکے نٹ بولٹ بھی صحیح نہیں تھے جس کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا ، اوور ہیڈ برج ٹوٹنے سے ساتھ ہی نصب بجلی کا ٹرانسفارمر جل گیا جس سے نواب آباد اور گردونواح کی بجلی منقطع ہوگئی ، تاہم موٹر وے پولیس نے کرین منگو اکر اوور ہیڈ کو ٹیک لگائی ، اووڑ ہیڈ برج ٹوٹنے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا ، کسی بڑے حادثے سے بچنے کے لئے موٹر وے پولیس نے ٹریفک روک دی،یاد رہے کہ نواب آبد اوورہیڈ برج پہلے ہی خستہ حالی کا شکار تھا تاہم این ایچ حکام سے اس پر کوئی توجہ نہ دی جس کی وجہ سے یہ بڑا سانحہ رونما ہوا،فوری طور پر اگر اقدامات نہ کئے جاتے تو بڑی تعداد میں انسانی جانوں کا نقصان ہوسکتا تھا جبکہ نواب آباد جی ٹی روڈ کی یہ شاہراہ مصروف ترین شاہراہ ہے جہاں ہر وقت ٹڑیفک کا بے پناہ رش رہتا ہے،موٹر وے کے مطابق سولہ فٹ سے زائد اونچائی کی گاڑی اس اوور ہیڈ برج سے نہیں گزر سکتی تاہم این ایچ اے کے ناقص انتظامات کی وجہ سے اوور اونچائی والی گاڑی یہاں سے گزرتی ہیں جس سے ا سقسم کے حادثات کا رونما ہونا فطری بات تھی،یاد رہے کہ مذکورہ اوور ہیڈ برج کے اوپر حفاظتی سلاخین بھی ٹوت چکی ہیں جہاں بڑے بڑے ہول بنے ہیں جبکہ اکثر سوکل کے بچے ، بچیاں اور راہگیر یہان سے روزانہ گزرتے ہیں اگر فوری انھیں ٹھیک نہ کیا گیا تو کسی بڑے حادثہ کا موجب بن سکتے ہیں،ادہر اوور ہیڈ برج کا ایک حصہ ٹوٹنے سے جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں شام گئے تک یہ سلسلہ جاری رہا،


ٹیکسلا ، نواب آباد اوور ہیڈ پل ٹوٹ گیا ٹریفک جام۔۔۔ Reviewed by SKY IRAQ on 17:28:00 Rating: 5

No comments:

All Rights Reserved by Voice of Taxila © 2014 - 2015
Powered By Blogger, Shared by Free WP Themes

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.