میں سلام پیش کرتا ہوں ان شہدا کو جنہوں نے وطن عزیزکی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا,چیئرمین محمد افضل
ٹیکسلا(وائس آف ٹیکسلا /مظہر حسین) ’’میں سلام پیش کرتا ہوں ان شہدا کو
جنہوں نے وطن عزیز اور اس ادارے کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور
شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہوئے۔ان شہداء کی قربانی کو ہم کبھی نہیں بھلا
سکتے اور پی او ایف کی تاریخ میں ان شہداء کی لازوال قربانی کو ہمیشہ یاد
رکھا جائے گا۔پی او ایف کے محنت کش وطن عزیز کی سلامتی و استحکام کی خاطر
دفاعی پیداوار کے معیار کو بہتر سے بہتر بنانے میں شب و روز اپنا خون پسینہ
ایک کیے ہوئے ہیں وطن کے یہ خاموش مجاہد اپنے ہاتھوں کے ہنر سے دفاع وطن
کے لیے وہ ہتھیار تیار کرتے ہیں جس کی دہشت سے دشمنوں کے سینے لرزہ براندام
رہتے ہیں‘‘۔ ان خیالات کا اظہارمحمد افضل قائمقام چیئرمین پی او ایف بورڈ
نے پی او ایف شہدا کی نویں برسی کی پُر وقار تقریب کے موقع پر کیا۔انہوں نے
مزید کہا کہ 21اگست2008کو بزدل دشمن نے عالم اسلام اور افواج پاکستان کے
بازوئے شمشیر زن پاکستان آرڈننس فیکٹریز کو نشانہ بنایا بزدل دشمن کا یہ
وار نہ صرف پی او ایف کے مجاہدوں نے اپنے سینوں پر جھیلا بلکہ اس سے ہمارے
حوصلے ، عزم و ارادے میں مزید پختگی آئی۔ اس سانحہ میں پی او ایف کے
70ملازمین نے جام شہادت نوش فرمایا اور 196کارکنان اس حادثے میں زخمی ہوئے۔
قائمقام چیئرمین پی او ایف بورڈ نے گھکھڑ پلازہ کے حادثے میں شہید ہونے
والے پی او ایف ملازمین اور مختلف فیکٹریز کے حادثات میں شہید ہونے والے
ملازمین کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔قائمقام چیئرمین پی او ایف بورڈ نے شہدا
کے لواحقین کو یقین دلایا کہ ان کی فلاح و بہبود کے لیے کیے گئے اقدامات
کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ اس سے پہلے قائمقام چیئرمین پی او ایف بورڈ نے
یادگار شہداء پر پھول رکھے اورفوجی دستے نے سلامی دی۔ قبل ازیں کرنل محمد حسیب اعظم ڈپٹی ڈائریکٹر فیلڈ ایڈمن نے استقبالیہ کلمات
میں کہا کہ پی او ایف انتظامیہ شہداء کے لواحقین کے مسائل کے حل کے لیے
ہمہ وقت کوشاں ہے۔ اس موقع پر شہدا کے لواحقین کے علاوہ سینئر سول و فوجی
افسران اور پی او ایف ملازمین کی کثیر تعداد موجود تھی۔جہانگیر احمد جتوئی
منیجر سنٹرل ویلفیئر نے نظامت کے فرائض سرانجام دیئے۔
میں سلام پیش کرتا ہوں ان شہدا کو جنہوں نے وطن عزیزکی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا,چیئرمین محمد افضل
Reviewed by Voice of Taxila News
on
22:00:00
Rating:
Reviewed by Voice of Taxila News
on
22:00:00
Rating:


No comments: