Top Ad unit 728 × 90

Smiley face

Latest

recent

مضر صحت اشیاء کی فروخت اور ٹی ایم اے کی چشم پوشی


تحریر : - مظہر حسین صادق:  مضر صحت اشیاء کی فروخت اور ٹی ایم اے کی چشم پوشی
ٹیکسلا اور اس کے گردونواح میں صفائی کے ناقص انتظامات، گندگی کے ڈھیر، اُبلتے گٹروں کا مسئلہ تو کافی پُرانا ہے جس پر کافی کچھ لکھا اور مختلف فورمز پر بولا جا چکا ہے۔ ذرائع ابلاغ آئے روز ایسے بے شمار مسائل کا احاطہ کر تا رہتا ہے ۔آخر ہم کس ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں، کیا قانون نام کی کوئی شے موجود ہے؟ ہر شخص اپنے تئیں خود مختار بنا بیٹھا ہے۔ جس کے بس میں جو آتا ہے بغیر کسی روک ٹوٹ کے کر گزرتا ہے، چاہے وہ عمل کتنا ہی غیر قانونی و غیر اخلاقی ہی کیوں نہ ہو۔ کوئی بیچ سڑک پر ٹھیلا لگا کر پوری ٹریفک جام کر دے، یا ذخیرہ اندوزی کرکے راتوں رات اپنے مال کی قیمت آسمان پر پہنچا دے، اُسے نہ ہی قانون کا ڈر ہے اور نہ ہی اس بات کا خوف کہ کل مرنے کے بعد آخرت میں جواب دہی ہونی ہے۔ اور اس پر ستم یہ کہ ٹیکسلا میں عرصہ دراز سے پرائس کنٹرول اتھارٹی برائے نام موجود تو ہے مگر اپنی ذمہ داریاں کب نبھائے گی ؟یہ تمام مسائل تو اپنی جگہ اہم ہیں ہی، اس کے ساتھ ایک سنگین مسئلہ ہمارے ہاں ملاوٹ اور ناقص اشیاء کی فروخت کا بھی ہے۔ ہمارے علم میں ہے کہ قصائی مردہ اور بیمار جانوروں کو بھی ذبح کر کے اور اُن کا گوشت ہم تک پہنچا رہے ہیں۔ اُن کے مذبح خانے گندگی سے اٹے ہوئے ہیں۔ گوشت جن گاڑیوں میں لادا جاتا ہے اُن کی حالت بھی انتہائی خستہ ہوتی ہے۔ پھر پورا راستہ گرد و غبار اور دھوئیں میں جانوروں کا گوشت ہم تک پہنچتا ہے اور اس طرح حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔کبھی ہم سنتے ہیں کہ بھینس کے بچے کا گوشت بکری کا گوشت بنا کر فروخت کیا جا رہا ہے تو کبھی ان میں پانی بھر کر مصنوعی طریقے سے وزن بڑھانے کی وارداتیں سامنے آتی ہیں۔ گھی کمپنیوں میں جائیں تو وہاں گندگی کی ایک الگ ہی داستان ہوتی ہے۔ پھر دودھ میں ملاوٹ، آٹے اور چینی میں ملاوٹ، عام پانی کو خاص بنا کر منہگے داموں فروخت کرنا، ایک طویل سلسلہ ہے جس کا ترقی یافتہ تو دور ترقی پذیر ممالک میں بھی تصور نہیں کیا جا سکتا۔عوام کی صحت، تعلیم اور اُن کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمے داری ہوتی ہے لیکن اگر ہمارے ملک میں ان تینوں شعبوں کا جائزہ لیا جائے تو صورت حال انتہائی افسوس ناک دکھائی دیتی ہے۔ صارفین کو پتا نہیں چلتا کہ جو کچھ وہ کھا رہے ہیں آیا وہ اس قابل بھی ہے کہ اُسے کھایا جائے؟ گلی، محلے اور بازار تو ایک طرف اسکولوں کے باہر شکرین ملا شربت اور گنڈے گولے فروخت ہو رہے ہیں، جن سے معصوم بچوں کی صحت تباہ کی جارہی ہے۔ دکانوں پر پان، گٹکے کی نت نئی اقسام کھلے عام فروخت ہوتی ہیں اور نوجوان نسل بڑی تیزی سے اس میں مبتلا ہو رہی ہے۔ ہسپتالوں میں جائیں تو کئی نوجوان یہ مضرِصحت اشیاء استعمال کر کے زندگی کی آخری سانسیں لیتے دکھائی دیتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے مضر صحت اشیاء کی فروخت روکنے میں مکمل طور پر بے بس دکھائی دیتے ہیں۔سبزیاں لینے جائیں تو وہاں بھی ایک الگ نوحہ ہے۔ بازاروں میں گندگی تو ایک طرف، صارفین کو یہ بھی نہیں پتا چلتا کہ جن زمینوں پر یہ سبزیاں کاشت ہوئی ہیں، اُن زمینوں کو کس پانی سے سیراب کیا گیا ہے۔ اخبارات اور ٹیلی ویژن پر اس حوالے سے مختلف رپورٹس آتی رہتی ہیں کہ ندی نالوں اور بعض اوقات فیکٹریوں کے گندے پانی سے بعض زمینیں سیراب کی جا رہی ہیں۔ لیکن انتظامیہ اور متعلقہ محکمے اس طرف سے غفلت برت رہے ہیں۔ شہر میں جگہ جگہ فروٹ کی ریڑھیاں لگی ہوئی ہیں جہاں لوگ خوب صورت انداز میں کٹا ہوا پھل دیکھ کر للچا جاتے ہیں اور اُسے کھانے کے لیے لپکتے ہیں۔ اُنہیں اندازہ ہی نہیں کہ جو کچھ وہ کھانے جا رہے ہیں اس میں بھی مصنوعی طریقے سے مٹھاس بھری گئی ہے، ساتھ ہی ساتھ گرد و غبار اور دھواں الگ سے ان پر پڑتا دکھائی دیتا ہے۔
آخرٹی ایم اے انتظامیہ کب حرکت میں آئے گی اور کب عوام کو صاف شفاف اشیاء کھانے کو میسر آئیں گی عید الاضحٰی کے موقع پر ایک طرف ذخیرہ اندوز موقع کا بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہیں تو دوسری طرف کئی لوگ ناقص اشیاء فروخت کر کے عوام کی بے بسی کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ حکومتی سطح پر ہر سال قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے اور عوام تک خالص اشیاء کی فراہمی کے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں لیکن آخر میں ہوتا وہی ہے جو ہمیشہ سے ہم دیکھتے آ رہے ہیں انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ دکان دار اور ہوٹل مالکان جالی لگا کر اشیائے خوردونوش کو گردو غبار سے محفوظ رکھیں اور ساتھ ہی دکان داروں، خوانچہ فروشوں اور ٹھیلے والوں کو تنبیہ کی جائے کہ وہ گرد و غبار سے اٹی اور ملاوٹ شدہ خوردنی اشیاء، گلے سڑے پھل اور ناقص مشروبات فروخت کرنے سے باز رہیں، ورنہ ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




مضر صحت اشیاء کی فروخت اور ٹی ایم اے کی چشم پوشی Reviewed by Voice of Taxila News on 16:21:00 Rating: 5

No comments:

All Rights Reserved by Voice of Taxila © 2014 - 2015
Powered By Blogger, Shared by Free WP Themes

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.