Top Ad unit 728 × 90

Smiley face

Latest

recent

کالم : وادی علم و عمل کے مہمار " عطاء ُ الرحمن چوہدری

دِل کی باتیں         "  وادی علم و عمل کے مہمار "   عطاء ُ الرحمن چوہدری
    ملٹری کالج جہلم کے سینئر ماہرِ تعلیم اور سابق ڈپٹی کمانڈنٹ لیفٹیننٹ کرنل (ر) محمد بشیر (آرمی ایجوکیشن کور) کی تصنیف کردہ انگریزی زبان میں کتاب Being & Becoming میرے ہاتھ میں ہے۔ اس کتاب کی مقبولیت یہی ہے کہ اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ اس سے قبل میں کتاب کی ورق گردانی کروں میں کئی سال پیچھے ماضی کے دریچوں میں کھو چکا ہوں غالباً دسمبر 1978ء میں جناب ایف ڈی چوہدری مرحوم مجھے اور میرے تین ہم جماعت ساتھیوں، جن میں عمران نواز ملک، ظفر گل فقیر چودھری، غلام مرتضیٰ حسینی خان آف جلالہ کو ملٹری کالج جہلم کے انٹری ٹیسٹ کیلئے ٹیکسلا کی گجر برادری کے ملک محمد صادق مرحوم جو ملک مبشر سلیم اور ملک ندیم صادق ایڈووکیٹ کے والد گرامی تھے، کی 70ماڈل کرولا گاڑی میں ایف جی ٹیکنیکل ہائی سکول طارق آباد راولپنڈی میں لیکرگئے تھے تاہم ہماری بدقسمتی کہ ہم چاروں میں سے کوئی بھی ملٹری کالج جہلم کے داخلہ ٹیسٹ کے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے فائنل تک نہ پہنچ پایا اور یوں ہمارے استاد مکرم کی ہمارے لیے کی گئی کاوشیں اس وقت بارآور ثابت نہ ہوسکیں۔ اس زمانے  میں واہ، ٹیکسلا میں خال خال پرائیویٹ کاریں لوگوں کے پاس ہوتی تھیں اور بس کا کرایہ واہ کینٹ تا راولپنڈی 3 روپے سے کم تھا۔ ملٹری کالج جہلم یہ ایک انگلش میڈیم پبلک سکول کی طرز پر بنایا جانے والا اقامتی ادارہ ہے۔ اپنے قیام 1925 سے اب تک اس ادارے کی تعلیمی، نصابی وہم نصابی سرگرمیوں کے علاوہ یہاں کے فارغ التحصیل طلباء نے وطنِ عزیز کے مختلف شعبوں خاص طور پر عسکری میدانمیں گرانقدر خدمات کی ایک شاندار طویل تاریخ رقم کرکے اپنی مادر علمی کے وقارمیں اضافے کا باعث بنے ہیں۔ یہ اسی روشنی کی ایک کڑی تھی کہ مجھے ہمیشہ سے ملٹری کالج جہلم سے ایک انس اور جذباتی لگائو رہا اور 2009ء میں میرا بڑا بیٹا ملٹری کالج جہلم کے داخلہ ٹیسٹ کے مدارج اپنے استاد مکرم محمد رفیق اعوان ڈائریکٹر شاہین کیڈٹ ساز سکول گدوال واہ چھائونی کی رہنمائی میں طے کرتے ہوئے داخلہ کا اہل قرار پایا۔ اکتوبر 2009ء کی ایک خوشگوار دوپہر کو میں اپنے بیٹے سے ملنے کیلئے محمود غزنوی ہائوس کے ہائوس ماسٹرلیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر سیف ملک کے دفتر میںموجودہوں۔ لیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر سیف ملک نے بتایا کہ ملٹری کالج یہ ایک انگلش میڈیم پبلک سکول کی طرز پر بنایا جانے والا اقامتی ادارہ ہے جو کہ بنیادی طور پر پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کیلئے فیڈر ادارے کا کام کرتا ہے۔ جماعت ہشتم سے ایف ایس سی تک تعلیم دینے والے اس نامور عسکری ادارے میں کم وبیش 550 کیڈٹس کیلئے بیک وقت تعلیم واقامت کا انتظام موجود ہے۔ 170 ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے اس ادارے میں جونیئر کلاس یعنی جماعت ہشتم کے طلباء کیلئے محمود غزنوی ہائوس اور بابر ہائوس ہیں جبکہ سینئر کیڈٹس کیلئے چار ہائوس جن میں ٹیپو سلطان ہائوس، اقبال ہائوس، اورنگ زیب ہائوس اور جناح ہائوس شامل ہیں۔ (اور سرسید کے نام سے ایک نیا ہائوس زیرِتعمیر ہے۔) اس درسگاہ کے قدیم ہائوس شیر شاہ ہائوس کی عمارت کو گرا کر انتظامی بلاک اور طلباء کیلئے جدید کیفے ٹیریا کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ طلباء کی جسمانی، روحانی، ذہنی اور اخلاقی تعمیر کیلئے ہر قسم کی سہولیات سے مزین پلے گرائونڈز، لائبریریز، لیبارٹریز اور اعلیٰ تعلیمیافتہ اساتذہ کی ٹیم اپنے کمانڈنٹ برگیڈئیر (ر)محمد افضل ملک کی زیرِ نگرانی اپنے پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ راقم نے اپنے بیٹے ضیاء الرحمن چوہدری سے پوچھا کہ آپ کے کالج کے وہ کون سے معلم ہیں جن کی طلباء دل وجان سے عزت کرتے ہیں تو میرے بیٹے نے کچھ دیر سوچنے کے بعد  کہا کہ سبھی اساتذہ بہت اچھے ہیں لیکن سینئر ٹیچر لیفٹیننٹ کرنل (ر) محمد بشیر ایسے استاد ہیں جو کالج میں PAPA پاپا کے نام سے مشہور ہیں۔ اگرچہ وہ ہمیں کچھ نہیں پڑھاتے، گیارھویں، بارھویں جماعت کو انگریزی پڑھانے کے علاوہ مسجد میں طلباء کو درس قرآن و حدیث سے بھی نوازتے ہیں۔ وہ طلباء کے ہر دلعزیز استاد ہیں۔ سیف ملک سے اجازت لینے کے بعد میں نے کرنل (ر) محمد بشیر سے ملنے کی ٹھان لی کیونکہ کچھ عرصہ قبل لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم ملک نے بھی ایک ملاقات میں ان کی طلسماتی شخصیت پر روشنی ڈالی تھی۔ کالج کی مرکزی لائبریری کے ساتھ ہی کرنل (ر) محمد بشیر اپنے دفتر میں موجود تھے اور چند طلباء کو انگریزی ادب، اقبالیات اور قرآن شناسی سے روشناس کرانے میں مگن تھے۔ علیک سلیک کے بعد کرنل صاحب کو مدعا بیان کیا کہ خود تو عالمگیرین نہ بن سکا البتہ الحمدللہ ایک عالمگیرین کا باپ ہونے کی حیثیت سے آپ کے سامنے بیٹھا ہوں اور درخواست گزار ہوں کہ آپ کی خصوصی شفقت وراہنمائی اگر میرے بیٹے کو بھی میسر آجائے تو آپ کیلئے دعائوں ہی کا تحفہ ہے۔ کرنل (ر) محمد بشیر نے تبسم فرماتے ہوئے نہایت ہی دلنشیں انداز میں فرمایا کہ بڑے خوش قسمت وہ والدین اور ان کے بچے ہیں جنہیں اپنے تعلیمی مدارج طے کرنے کیلئے اس عظیم درسگاہ میں داخلہ ملتا ہے۔ الحمد للہ آپ کا بیٹا محفوظ ہاتھوں میں ہے، آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس درسگاہ کے ایک چوکیدار ، چپڑاسی، سپاہی سے لے کر کمانڈنٹ تک جو (بریگیڈئیر رینگ) کے ہوتے ہیں ہر ایک کیڈٹ طالب علم کو اپنی اولاد کی طرح جانتے ہوئے ان کی تعلیمی ترقی میں اپنے فرائض منصبی سرانجام دیتے ہیں۔ فرمانے لگے کہ اس درسگاہ کا نصب العین ہی ’’علم وعمل‘‘ ہے۔ علم وعمل دو ایسے الفاظ ہیں جنکو اگر یکجا کردیا جائے تو ان الفاظ میں اتنی طاقت وسکت ہے کہ یہ انسان کو گمنامیوں کی گہرائیوں سے نکال کر عزت ومرتبہ کے اس مقام پر لاکھڑا کردیتے ہیں جو ہر نفسِ انسانی کی سرشت میں خواب کی مانند موجزن ہے۔ اس درسگاہ کو اس مقام تک لانے میں یہاں کے اساتذہ اور سٹاف نے اپنے خون جگر کا نذرانہ پیش کیا تبھی تو اسے وادی علم وعمل کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ موصوف کرنل صاحب اتنی اپنائیت اور چاہت سے بولے جارہے تھے کہ جیسے ہم لوگ کئی سالوں کے شناسا ہیں اور وہ اپنے کسی خاص عزیز دوست کے ساتھ مخاطب ہیں۔ ضیاء الرحمن چوہدری سے مخاطب ہوکر کہنے لگے کہ بیٹا یہ کوئی روایتی درسگاہ نہیں بلکہ اس درسگاہ کے آپ پر اتنے احسانات ہوجائیں گے کہ آپ شمار بھی نہیں کر پائیں گے۔ چائے اور دیگر لوازمات ہمارے سامنے تھے۔ کرنل صاحب نے گوہرروشان نامی اپنے طالب علم کا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ فاٹا سے اس بچے کا تعلق ہے۔ بہت ہی ذہین اور فرماں بردار اور علم سے لگائو رکھنے والا طالب علم ہے۔ پوری انگریزی کی ڈکشنری اسے زبانی یاد ہے اور انگریز سے بہتر انگریزی بولتا ہے حالانکہ اس کے پشتو لہجے کو ختم کرنے میں مجھے 2 سال لگے۔ گوہر روشان آجکل بطور کپتان شمالی علاقہ جات میں مادر وطن کے دفاع کیلئے اپنی خدمات کی بجا آوری کر رہے ہیں۔ کرنل (ر) محمد بشیر جیسے محبت وطن اساتذہ کی راہنمائی ہر موڑ ہر نشیب پر کھڑے راہنمائے جادہ منزل کا ایسا کردار ادا کررہے ہیں کہ اس درسگاہ سے ایسے جانباز اور سپوت پیدا ہوئے ہیں جو وطن کی حرمت پر مر مٹنے اور سر کٹانے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ بلاشبہ ملٹری کالج جہلم وادی علم وعمل ایسے صدف کی مانند ہے جس میں داخل ہونے والا ہر قطرہ نیساں گوہر کی شکل اختیار کر لیتا ہے یہ اس شعلہ کی مثل ہے جو علم وعمل کے آتش سے کندنبناتا ہے یہ اس ندی کی مانند ہے جس کا دل چاہے جتنا مرضی سیراب ہو اور جو چاہے اس کی رُو میں بہہ جائے۔ واقعی یہ درسگاہ اس آفتاب کی مانند ہے جس کی تمازت سے وطنِ عزیز کا ذرہ ذرہ فیض یاب ہو رہا ہے۔ ملٹری کالج جہلم کی مٹی ودھرتی سے شہیدوں کے لہو کی خوشبو آتی ہے۔ اس کے درودیوار میں پروفیسر سعید راشد، اور عین الدین علوی جیسے اساتذہ کے پیکر نظر آتے ہیں۔ یقین جانئیے کہ ملٹری کالج جہلم کے اندر جہاں علمی خوشبو سے ماحول معطر ہے وہاں پر کالج کی ٹھنڈی ہوائیں نہ صرف طلباء بلکہ والدین کو بھی یہ احساس دلاتی ہیں کہ ہم پر اس ملک کا بہت بڑا احسان ہے اور ہم نے اس ملک کی مٹی کا قرض چکانا ہے۔ یہ میجر محمد اکرم شہید نشانِ حیدر اور برگیڈئیر حسین عباس شہید جیسے عظیم بہادر شہداء کی مادر علمی ہے۔ سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کا لڑکپن بھی یہیں گزرا۔ افواج پاکستان کے بڑے بڑے نام ملٹری کالج جہلم ہی کے مرہون منت ہیں۔ قارئین کرام!  راقم 2009 تا 2014 پانچ سال کے دوران ملٹری کالج جہلم کی سالانہ یوم والدین کی تقریبات کے علاوہ لاتعداد مرتبہ گیا۔ اس مادر علمی کے اساتذہ میجر عرفان نعمت،کرنل عبدالباسط،میجر جہانگیر،کرنل سیف ملک، نے ہمیشہ تابندگی بخشی اور ہمیشہ اپنی آغوش سے ہمیں عزت وعظمت سے نوازا۔ اے وادی علم وعمل! تجھ کو سلام! اور تجھ کو بنانے، سنوارنے والوں کی عظمت کو سلام۔ اور بلاشبہ کرنل (ر) محمد بشیر جیسے اساتذہ ملک بھر کی درسگاہوں کے اساتذہ کیلئے ایک قابل تقلید نمونہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت وسلامتی سے نوازے۔ (آمین)
ایم سی جے زندہ باد         پاکستان پائندہ باد





کالم : وادی علم و عمل کے مہمار " عطاء ُ الرحمن چوہدری Reviewed by Voice of Taxila News on 12:16:00 Rating: 5

No comments:

All Rights Reserved by Voice of Taxila © 2014 - 2015
Powered By Blogger, Shared by Free WP Themes

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.