خصوصی کالم : قسمت نوع بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں , عطاء ُ الرحمن چوہدری آف ٹیکسلا
دِل کی باتیں *** قسمت نوع بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں ( عطاء ُ الرحمن چوہدری آف ٹیکسلا )
اعلیٰ اور معیاری تعلیم کی فراہمی اور اسکا ثمر ظاہر ہے امتحانات اور ان کے بہترین نتائج کی صورت میں طالب علموں کو ملتا ہے یہ بات قابل غور ہے کہ سرکاری اور نجی سکولوں میں معیار تعلیم کس قدر پروان چڑھ رہا ہے ؟یہ بات نہیں کہ ہمارے سرکاری سکولوں کی حالت زار درست نہیں تا ہم پرائیویٹ سکولز نے بہترین مینجمنٹ کا ثبوت دے کر اپنی سبقت کو بر قرار رکھا ہواہے اور آج نجی تعلیمی اداروں کے نتائج سرکاری تعلیمی اداروں کے مقابل قدرے بہتر ہی نہیں بلکہ ملک بھر بالخصوص پنجاب کے تعلیمی بورڈز میں ٹاپ پوزیشنز پہ ان ہی اداروں کے ذہین و فطین بچے پوزیشنز سٹینڈرز پہ جلوہ افروز ہوتے ہیں ہر دونوں صورتوں میںنونہالان وطن زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری سکولوں کا انفراسٹرکچر بہتر کیا جائے اور جو نجی تعلیمی ادارے کسی بھی سطح پر اعلیٰ و معیاری تعلیم سے اپنے طلباء کو منور کر رہے ہیں اور اُن کے نتائج شاندار ہیں ان کی تعلیمی خدمات کو سرکاری سطح پہ تسلیم کیا جائے علاوہ ازیں طلباء اور اساتذہ کی محنت کا ثمر بخشنے والے لوگ یعنی بورڈزآف انٹرمیڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن ہیں جہاں پہ بچوں کی قسمت نوع بشر تبدیل ہوتی ہے ان تعلیمی بورڈز بالخصوص میں پنجاب کی بات کروں گا امتحانات کا انعقاد کر لینا اور رزلٹ کے اعلانات کے ساتھ ساتھ معصوم طلباء کی قسمت بدلنے والے اہل کاران اور جملہ امتحانی عملہ کو ایسے ماحول میں امتحانات لینے ہونگے اور شفاف مارکنگ کے ذریعے حقدار تک اُس کا حق پہنچاناہو گا کیونکہ یہ اُن کا پیشہ ورانہ بنیادی ملی و مذہبی فریضہ ہے اگر چہ ثانوی و تعلیمی بورڈ راولپنڈی نے اپنے قیام ۱۹۷۸ء خزاں میٹرک سے کرائے کی عما رات صدیقی چوک راولپنڈی سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور اب تک مختلف مراحل و مدارج طے کرتے ہوئے گذشتہ چند سالوں سے بورڈ اپنی ملکیتی عمارت واقع مورگاہ راولپنڈی منتقل ہو چکاہے۔ایک جگہ سبھی برانچز کی کارکردگی و معیار کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے بورڈز کے اعلیٰ حکام جہاں پہ مثبت اور ٹھوس اقدامات کر رہے ہیں وہاں پہ نجی سیکٹر بھی یہ چاہتا ہے کہ اُن کے تعلیمی اداروں اور بورڈز کی ذمہ داران کے درمیان ایسی فضاء قائم ہو کہ سب ملکر ایسے انداز میں کام کریں کہ عوام الناس اور اُن کے بچوں کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہ رہے بر وقت نتائج ،اسناد ، مائیگریشن ،این۔او۔سی۔مارک شیٹس ،بورڈ سے اسناد کی تصدیق ،درستگی تاریخ پیدائش نام،ولدیت،نام کے ہجوں کی درستگی،ڈوپلیکیٹ سند کا اجراء بورڈ کے ساتھ تعلیمی اداروں کا الحاق وغیرہ و غیرہ جیسے مسائل سے طلباء اور سکول انتظامیہ آسانی سے نجات پا سکیں
’’نجات‘‘کا لفظ میں اس لیے لکھ رھا ہوں کہ جو والدین ،طلباء یا اساتذہ ان مراحل سے گزرے ہیں وہ میرے ان الفاظ کی قدر و قیمت بخوبی جا نتے ہیں ان ہی مسائل کے حل کے لیے بورڈکے امتحانات میں نجی شعبہ کے اساتذہ کی تقرری امتحانی مراکز کے لیے نجی شعبہ کی عمارات کی فراہمی اور دیگر امتحانی عملہ کی خدمات کے حصول کے لیے راولپنڈی شہر کے ایک درویش منش ماہر تعلیم پروفیسر ابرار احمد خان ڈویثرنل صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن راولپنڈی نے گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں ہر دلعزیز نوجوان متحرک ماہر تعلیم پروفیسر رانا محمد جاوید سیکر ٹری تعلیمی بورڈ راولپنڈی کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کیا۔ عامر انور اور ابرار احمد خان ایڈوکیٹ مہمانوں کو خوش آمدید کہہ رہے تھے ۔اس تقریب میں راولپنڈی شہر اور ڈویثرن بھر سے چیدہ چیدہ سربراہان مدارس نے شرکت کی ۔ٹیکسلا سے راقم اور شیخ قمر احمد اور واہ چھاونی سے راجہ طارق محمود اور نعمان خالد شریک ہوئے بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن ایمپلائیزیونین کے صدر راجہ سجاد اکبر بھی موجود تھے ۔میزبان تقریب پروفیسر ابرار احمد خان نے اپنے خطبہ استقبالیہ کے بعد تعلیمی بورڈکی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ٹھوس تجاویز دیں ۔ پروفیسر رانا محمد جاوید سیکر ٹری بورڈ نے پروفیسر ابرار احمد خان اور اُن کی تنظیم اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی ملکی سطح پر شراکت و تعاون اور بہترین نتائج و نظم و نسق پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بحیثیت سیکر ٹری بورڈ میں نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ ایمانداری لگن اور محنت کے ساتھ نہ صرف اپنے فرائض کی بجا آوری عمل میں لائوں بلکہ بورڈ کے لگ بھگ چار سو ملازمین بھی اپنی صلاحیتوں کو دیانت دارانہ طریق سے استعمال کر کے بہتری کی جانب گامزن ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب طلباء اور عوام کا راولپنڈی بورڈ کی کارکردگی پہ اطمینان بخش ردِ عمل سامنے آئے گا۔امتحانی مراکز کا قیام،امتحانات کے انعقاد ،سٹاف کی تقرری،پیپرز مارکنگ اور دیگر مسائل کے حوالے سے اُنھوں نے نجی سیکٹر کو ساتھ لیکر چلنے کا عندیہ دیا۔
ٹیکسلا سے سینئرماہر تعلیم اور بورڈ ممبر سید اعجاز کلیم اللہ شاہ کاظمی ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول HITٹیکسلا کینٹ نے راقم سے اپنی گفتگو میں بتایا کہ جب سے ثانوی و تعلیمی بورڈ راولپنڈی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد ظریف نے چارج سنبھالا ہے اُن کی طاہرانہ نگاہوں اور عقابی پرواز نے راولپنڈی بورڈ کے اندر بڑی تبدیلی آچکی ہے طلباء ،اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے لیے اصلاحات کا آغاز کیا ہے یہی وجہ ہے کہ ان اقدامات کی وجہ سے راولپنڈی تعلیمی بورڈ کی ساکھ میں قابل ِ قدر اور قابل فخر اضافہ ہوا ہے۔ بورڈ ز کے ملازمین اپنے اپنے شعبہ جات میں ڈبل،ٹرپل ڈیوٹییاںدے کر بورڈ کے قیام کے بنیادی مقاصد کی جانب نہ صرف تیزی سے گامزن ہیں بلکہ طلباء اور اُن کے والدین کو تمام تر سہولیات ’’ون ونڈو‘‘کے ذریعے با ہم پہنچا رہے ہیں ۔اس سال جماعت نہم اور گیارھویں جماعت کے لاکھوں طلباء کو ایک کلک پہ رجسٹریشن کارڈز آن لائن موجودہیں ۔گذشتہ میٹرک و انٹر میڈیٹ امتحانات کا بروقت انعقاد اور بر وقت شفاف نتائج سے نہ صرف تعلیمی اداروں کے سربراہان اور اساتذہ بلکہ طلباء کا اطمینان اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ بورڈز کے افسران اور ملازمین دیانت داری کے ساتھ اپنے فرائض ادا کر کے نہ صرف رزق حلال کے لیے کوشاں ہیں بلکہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی احسن طریق سے بجا آوری کر رہے ہیں اور آئندہ سالوں میں بورڈکے لیے درکار سٹاف کی تقرری عمل میں آتے ہی بہت سارے تا خیری مراحل سے طلباء اور عوام نجات پا لیں گے۔چیئرمین راولپنڈی بورڈ جناب ڈاکٹر محمد ظریف اور سیکرٹری تعلیمی بورڈ پروفیسر رانا محمد جاوید کی پر خلوص ،ایماندار انہ کاوشوں کووالدین طلباء اور عوام الناس خاص طور پر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن راولپنڈی ڈویثرن نہ صرف قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے بلکہ بورڈکے ساتھ نجی تعلیمی اداروں کے الحاق کے سلسلہ میں بے مقصد کڑی شرائط کے خاتمہ اور بورڈ کے ذمہ داران اورنجی تعلیمی اداروں کے سربراہان ،اساتذہ اور طلباء کے درمیان خوشگوار تعلقات کی خواہاں ہے اور اس دعا کے ساتھ کہ وہ دن ضرور ان دو ذمہ داران افسران کی موجودگی میں آئے جب ہمارے اساتذہ اور لاکھوں معصوم طلباء کے اذہان و قلوب میں یہ بات سما جائے کہ
؎ قسمت نوع بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں اک مقدس فرض کی تکمیل ہوتی ہے یہاں
یقیناً ہماری درسگاہیں ہماری تقدیر کو بدل سکتی ہیں اور ہمارے اساتذہ کی دی ہوئی راہنمائی اور تعلیم و تربیت اور طلباء اور اساتذہ کی محنت ِشاقہ ہی قسمت اور تقدیر بدل سکتی ہے راولپنڈی تعلیمی بورڈ کا کام صرف اور صرف اُن کی کی ہوئی تعلیمی محنت کے ثمر کو شفاف طریقے سے جانچنااور حق دارتک اس کا حق پہنچانا ہے نہ کہ ان کی قسمت اور مستقبل سے کھیلنا ہے ؟ والدین اور عوام الناس بھی یہ محسوس کریں کہ بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن راولپنڈی کی خدمات کے ثمرات سے حقیقی معنوں میں وہ استفادہ کر رہے ہیں اس سلسلہ میں بورڈ ممبران کی معاونت سے جناب چئیرمین اور جناب سیکرٹری کوبورڈ کی اندرونی و بیرونی صفائی کے لیے ٹھوس جرأت مندانہ اقدامات کرنے ہونگے تا کہ راولپنڈی بورڈ کے قیام کے اصل مقاصد اور خدمات سے عوام الناس بہرہ ور ہو سکیں بورڈ کی آمدن کاایک بڑا ذریعہ پرا ئیویٹ تعلیمی ادارے اور اُن کے لاکھوں طلباء ہیں جو بھاری بھر داخلہ فیسیں اور مختلف مدات میں بورڈ کی آمدن میں اضافہ کا باعث ہیں وہ چاہیں گے کہ بورڈ کے ذمہ داران اور اہل کاران شفافیت کی بنیاد پر نہ صرف اُن کے نتائج کو مرتب کریں بلکہ تعلیمی اداروں کے سربراہان اور بورڈ میں اپنے در پیش مسائل کے حل کے لیے جانے والے طلباء اور اُن کے والدین کے اطمینان کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کرنا ہو گی ۔چیئرمین بورڈ اور سیکرٹری بورڈ کو اپنے عملے کی تربیت اوران کے قبلے کی درستگی کے لیے بھی ابھی بہت کچھ کرنا ہے جس سے نہ صرف بورڈ کی نیک نامی میں اضافہ ہو گا بلکہ سا ئیلین کا بھلا اور دعائیں بھی شاملِ حال ہو جائیں گی اور مور گاہ کے مقام پر ’’مور‘‘ کی طرح ناچنے سے عوام الناس بچ پائیں تاکہ راولپنڈی تعلیمی بورڈ کا نام سنتے ہی اُن کے احساسات اور جذبات میں ایسا تاثر نہ ابھرے ۔ ؎ یادِ ماضی عذاب ہے یا رب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
اعلیٰ اور معیاری تعلیم کی فراہمی اور اسکا ثمر ظاہر ہے امتحانات اور ان کے بہترین نتائج کی صورت میں طالب علموں کو ملتا ہے یہ بات قابل غور ہے کہ سرکاری اور نجی سکولوں میں معیار تعلیم کس قدر پروان چڑھ رہا ہے ؟یہ بات نہیں کہ ہمارے سرکاری سکولوں کی حالت زار درست نہیں تا ہم پرائیویٹ سکولز نے بہترین مینجمنٹ کا ثبوت دے کر اپنی سبقت کو بر قرار رکھا ہواہے اور آج نجی تعلیمی اداروں کے نتائج سرکاری تعلیمی اداروں کے مقابل قدرے بہتر ہی نہیں بلکہ ملک بھر بالخصوص پنجاب کے تعلیمی بورڈز میں ٹاپ پوزیشنز پہ ان ہی اداروں کے ذہین و فطین بچے پوزیشنز سٹینڈرز پہ جلوہ افروز ہوتے ہیں ہر دونوں صورتوں میںنونہالان وطن زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری سکولوں کا انفراسٹرکچر بہتر کیا جائے اور جو نجی تعلیمی ادارے کسی بھی سطح پر اعلیٰ و معیاری تعلیم سے اپنے طلباء کو منور کر رہے ہیں اور اُن کے نتائج شاندار ہیں ان کی تعلیمی خدمات کو سرکاری سطح پہ تسلیم کیا جائے علاوہ ازیں طلباء اور اساتذہ کی محنت کا ثمر بخشنے والے لوگ یعنی بورڈزآف انٹرمیڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن ہیں جہاں پہ بچوں کی قسمت نوع بشر تبدیل ہوتی ہے ان تعلیمی بورڈز بالخصوص میں پنجاب کی بات کروں گا امتحانات کا انعقاد کر لینا اور رزلٹ کے اعلانات کے ساتھ ساتھ معصوم طلباء کی قسمت بدلنے والے اہل کاران اور جملہ امتحانی عملہ کو ایسے ماحول میں امتحانات لینے ہونگے اور شفاف مارکنگ کے ذریعے حقدار تک اُس کا حق پہنچاناہو گا کیونکہ یہ اُن کا پیشہ ورانہ بنیادی ملی و مذہبی فریضہ ہے اگر چہ ثانوی و تعلیمی بورڈ راولپنڈی نے اپنے قیام ۱۹۷۸ء خزاں میٹرک سے کرائے کی عما رات صدیقی چوک راولپنڈی سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور اب تک مختلف مراحل و مدارج طے کرتے ہوئے گذشتہ چند سالوں سے بورڈ اپنی ملکیتی عمارت واقع مورگاہ راولپنڈی منتقل ہو چکاہے۔ایک جگہ سبھی برانچز کی کارکردگی و معیار کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے بورڈز کے اعلیٰ حکام جہاں پہ مثبت اور ٹھوس اقدامات کر رہے ہیں وہاں پہ نجی سیکٹر بھی یہ چاہتا ہے کہ اُن کے تعلیمی اداروں اور بورڈز کی ذمہ داران کے درمیان ایسی فضاء قائم ہو کہ سب ملکر ایسے انداز میں کام کریں کہ عوام الناس اور اُن کے بچوں کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہ رہے بر وقت نتائج ،اسناد ، مائیگریشن ،این۔او۔سی۔مارک شیٹس ،بورڈ سے اسناد کی تصدیق ،درستگی تاریخ پیدائش نام،ولدیت،نام کے ہجوں کی درستگی،ڈوپلیکیٹ سند کا اجراء بورڈ کے ساتھ تعلیمی اداروں کا الحاق وغیرہ و غیرہ جیسے مسائل سے طلباء اور سکول انتظامیہ آسانی سے نجات پا سکیں
’’نجات‘‘کا لفظ میں اس لیے لکھ رھا ہوں کہ جو والدین ،طلباء یا اساتذہ ان مراحل سے گزرے ہیں وہ میرے ان الفاظ کی قدر و قیمت بخوبی جا نتے ہیں ان ہی مسائل کے حل کے لیے بورڈکے امتحانات میں نجی شعبہ کے اساتذہ کی تقرری امتحانی مراکز کے لیے نجی شعبہ کی عمارات کی فراہمی اور دیگر امتحانی عملہ کی خدمات کے حصول کے لیے راولپنڈی شہر کے ایک درویش منش ماہر تعلیم پروفیسر ابرار احمد خان ڈویثرنل صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن راولپنڈی نے گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں ہر دلعزیز نوجوان متحرک ماہر تعلیم پروفیسر رانا محمد جاوید سیکر ٹری تعلیمی بورڈ راولپنڈی کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کیا۔ عامر انور اور ابرار احمد خان ایڈوکیٹ مہمانوں کو خوش آمدید کہہ رہے تھے ۔اس تقریب میں راولپنڈی شہر اور ڈویثرن بھر سے چیدہ چیدہ سربراہان مدارس نے شرکت کی ۔ٹیکسلا سے راقم اور شیخ قمر احمد اور واہ چھاونی سے راجہ طارق محمود اور نعمان خالد شریک ہوئے بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن ایمپلائیزیونین کے صدر راجہ سجاد اکبر بھی موجود تھے ۔میزبان تقریب پروفیسر ابرار احمد خان نے اپنے خطبہ استقبالیہ کے بعد تعلیمی بورڈکی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ٹھوس تجاویز دیں ۔ پروفیسر رانا محمد جاوید سیکر ٹری بورڈ نے پروفیسر ابرار احمد خان اور اُن کی تنظیم اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی ملکی سطح پر شراکت و تعاون اور بہترین نتائج و نظم و نسق پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بحیثیت سیکر ٹری بورڈ میں نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ ایمانداری لگن اور محنت کے ساتھ نہ صرف اپنے فرائض کی بجا آوری عمل میں لائوں بلکہ بورڈ کے لگ بھگ چار سو ملازمین بھی اپنی صلاحیتوں کو دیانت دارانہ طریق سے استعمال کر کے بہتری کی جانب گامزن ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب طلباء اور عوام کا راولپنڈی بورڈ کی کارکردگی پہ اطمینان بخش ردِ عمل سامنے آئے گا۔امتحانی مراکز کا قیام،امتحانات کے انعقاد ،سٹاف کی تقرری،پیپرز مارکنگ اور دیگر مسائل کے حوالے سے اُنھوں نے نجی سیکٹر کو ساتھ لیکر چلنے کا عندیہ دیا۔
ٹیکسلا سے سینئرماہر تعلیم اور بورڈ ممبر سید اعجاز کلیم اللہ شاہ کاظمی ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول HITٹیکسلا کینٹ نے راقم سے اپنی گفتگو میں بتایا کہ جب سے ثانوی و تعلیمی بورڈ راولپنڈی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد ظریف نے چارج سنبھالا ہے اُن کی طاہرانہ نگاہوں اور عقابی پرواز نے راولپنڈی بورڈ کے اندر بڑی تبدیلی آچکی ہے طلباء ،اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے لیے اصلاحات کا آغاز کیا ہے یہی وجہ ہے کہ ان اقدامات کی وجہ سے راولپنڈی تعلیمی بورڈ کی ساکھ میں قابل ِ قدر اور قابل فخر اضافہ ہوا ہے۔ بورڈ ز کے ملازمین اپنے اپنے شعبہ جات میں ڈبل،ٹرپل ڈیوٹییاںدے کر بورڈ کے قیام کے بنیادی مقاصد کی جانب نہ صرف تیزی سے گامزن ہیں بلکہ طلباء اور اُن کے والدین کو تمام تر سہولیات ’’ون ونڈو‘‘کے ذریعے با ہم پہنچا رہے ہیں ۔اس سال جماعت نہم اور گیارھویں جماعت کے لاکھوں طلباء کو ایک کلک پہ رجسٹریشن کارڈز آن لائن موجودہیں ۔گذشتہ میٹرک و انٹر میڈیٹ امتحانات کا بروقت انعقاد اور بر وقت شفاف نتائج سے نہ صرف تعلیمی اداروں کے سربراہان اور اساتذہ بلکہ طلباء کا اطمینان اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ بورڈز کے افسران اور ملازمین دیانت داری کے ساتھ اپنے فرائض ادا کر کے نہ صرف رزق حلال کے لیے کوشاں ہیں بلکہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی احسن طریق سے بجا آوری کر رہے ہیں اور آئندہ سالوں میں بورڈکے لیے درکار سٹاف کی تقرری عمل میں آتے ہی بہت سارے تا خیری مراحل سے طلباء اور عوام نجات پا لیں گے۔چیئرمین راولپنڈی بورڈ جناب ڈاکٹر محمد ظریف اور سیکرٹری تعلیمی بورڈ پروفیسر رانا محمد جاوید کی پر خلوص ،ایماندار انہ کاوشوں کووالدین طلباء اور عوام الناس خاص طور پر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن راولپنڈی ڈویثرن نہ صرف قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے بلکہ بورڈکے ساتھ نجی تعلیمی اداروں کے الحاق کے سلسلہ میں بے مقصد کڑی شرائط کے خاتمہ اور بورڈ کے ذمہ داران اورنجی تعلیمی اداروں کے سربراہان ،اساتذہ اور طلباء کے درمیان خوشگوار تعلقات کی خواہاں ہے اور اس دعا کے ساتھ کہ وہ دن ضرور ان دو ذمہ داران افسران کی موجودگی میں آئے جب ہمارے اساتذہ اور لاکھوں معصوم طلباء کے اذہان و قلوب میں یہ بات سما جائے کہ
؎ قسمت نوع بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں اک مقدس فرض کی تکمیل ہوتی ہے یہاں
یقیناً ہماری درسگاہیں ہماری تقدیر کو بدل سکتی ہیں اور ہمارے اساتذہ کی دی ہوئی راہنمائی اور تعلیم و تربیت اور طلباء اور اساتذہ کی محنت ِشاقہ ہی قسمت اور تقدیر بدل سکتی ہے راولپنڈی تعلیمی بورڈ کا کام صرف اور صرف اُن کی کی ہوئی تعلیمی محنت کے ثمر کو شفاف طریقے سے جانچنااور حق دارتک اس کا حق پہنچانا ہے نہ کہ ان کی قسمت اور مستقبل سے کھیلنا ہے ؟ والدین اور عوام الناس بھی یہ محسوس کریں کہ بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن راولپنڈی کی خدمات کے ثمرات سے حقیقی معنوں میں وہ استفادہ کر رہے ہیں اس سلسلہ میں بورڈ ممبران کی معاونت سے جناب چئیرمین اور جناب سیکرٹری کوبورڈ کی اندرونی و بیرونی صفائی کے لیے ٹھوس جرأت مندانہ اقدامات کرنے ہونگے تا کہ راولپنڈی بورڈ کے قیام کے اصل مقاصد اور خدمات سے عوام الناس بہرہ ور ہو سکیں بورڈ کی آمدن کاایک بڑا ذریعہ پرا ئیویٹ تعلیمی ادارے اور اُن کے لاکھوں طلباء ہیں جو بھاری بھر داخلہ فیسیں اور مختلف مدات میں بورڈ کی آمدن میں اضافہ کا باعث ہیں وہ چاہیں گے کہ بورڈ کے ذمہ داران اور اہل کاران شفافیت کی بنیاد پر نہ صرف اُن کے نتائج کو مرتب کریں بلکہ تعلیمی اداروں کے سربراہان اور بورڈ میں اپنے در پیش مسائل کے حل کے لیے جانے والے طلباء اور اُن کے والدین کے اطمینان کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کرنا ہو گی ۔چیئرمین بورڈ اور سیکرٹری بورڈ کو اپنے عملے کی تربیت اوران کے قبلے کی درستگی کے لیے بھی ابھی بہت کچھ کرنا ہے جس سے نہ صرف بورڈ کی نیک نامی میں اضافہ ہو گا بلکہ سا ئیلین کا بھلا اور دعائیں بھی شاملِ حال ہو جائیں گی اور مور گاہ کے مقام پر ’’مور‘‘ کی طرح ناچنے سے عوام الناس بچ پائیں تاکہ راولپنڈی تعلیمی بورڈ کا نام سنتے ہی اُن کے احساسات اور جذبات میں ایسا تاثر نہ ابھرے ۔ ؎ یادِ ماضی عذاب ہے یا رب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
خصوصی کالم : قسمت نوع بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں , عطاء ُ الرحمن چوہدری آف ٹیکسلا
Reviewed by Voice of Taxila News
on
22:59:00
Rating:
Reviewed by Voice of Taxila News
on
22:59:00
Rating:


No comments: