ٹیکسلا : بلدیاتی انتخابات ، مخلتف وارڈز اور یونین کونسلز کے نتائج چلینج !!! ، ری کونٹینگ ہوئی دوبارہ کون جیتا ، جانیئے اس رپورٹ میں۔
ٹیکسلا(ڈاکٹر سید صابر علی )ٹیکسلا میونسپل کمیٹی کے الیکشن میں وارڈ نمبر چار اور وارڈ نمبر اٹھارہ سے پی ٹی آئی کے ہارنے والے امیدواروں کی جانب سے دوبارہ گنتی کی درخواست ، ریٹرننگ آفیسر نے امیدوارو ں اور ان کے نامزد نمائندوں کی موجودگی میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرائی نتائج کے مطابق کوئی ردبدل نہیں ہوسکی ، سابقہ نتائج برقرار ، مسلم لیگ کے کامیاب امیدواروں کا دوبارہ جشن ، ٹی ایم اے آفس میں لوگوں کا جم غفیر جمع ہوگیا، سیکورٹی اقدمات کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری طلب کر لی گئی،حامیوں کی گیٹ سے باہر اپنے امیدواروں کے حق میں نعرے بازی، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے اور رقص کا سلسلہ جاری رہا ،قبل ازیں دوبارہ گنتی ریٹرننگ آفیسر اسسٹنٹ کمشنر ٹیکسلا شاہد عمران مارتھ نے دونوں فریقین کے وکلاء کے دلائل سنے ، مسلم لیگ ن کی جانب سےا قرار شاہ کی سربراہی میں وکلاء کا پینل ٹی ایم اے آفس میں موجود تھا،مسلم لیگ ن کے زعماء کے علاوہ پی ٹی آئی کے ایم پی اے محمد صدیق خان بھی وہاں موجود رہے،دوبارہ گنتی کے بعد ریٹرننگ آفیسر اسسٹنٹ کمشنر شاہد عمران مارتھ نے میڈیا اور ٹی ایم اے آفس میں موجود لوگوں کے سامنے نتائج کا اعلان کیا، نتائج کے مطابق وارڈ نمبر اٹھارہ سے مسلم لیگ ن کے امیدوار شیخ ساجد محمود ایک مرتبہ پھر کامیاب قرار پائے ،سابقہ نتائج بدستور اسی حالت میں برقرار رہے ، یاد رہے کہ شیخ ساجد محمود پی ٹی آئی کے امیدوار ملک ظہیر نواز کو آٹھ ووٹوں کی لیڈ سے ہرا کر کامیاب ہوئے تھے،دوبارہ گنتی کے بعد بھی نتائج میں کوئی تبدیلی نہ آئی اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ انھوں نے نمائندگان کی موجودگی دوبارہ گنتی کرائی جبکہ ایک نہیں تین مرتبہ گنتی کی گئی ، ادہر دوبارہ گنتی میں موجود پی ٹی آئی کے ملک پرویز نے نتائج کو من و عن تسلیم تو کیا مگر انکا موقف تھا کہ انھوں نے نتیجہ پر دستخط اس لئے نہیں کئے کہ لفافے سیل نہ تھے، جس پر وہاں موجود لوگوں کی ہنسی نکل گئی،کیونکہ نتائج کے مطابق ووٹوں کی تعداد جوں کی توں رہی ، ریٹرننگ آفیسر کا کہنا تھا کہ انھوں نے وہاں موجودگی کے لئے حاضری لگائی مگر اب بلاوجہ اور بلا مقصد باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ، انکا کہنا تھا کہ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے امیدوار ملک ظہیر نواز کے پینتیس مزید مسترد ہوسکتے تھے جو نہیں کئے گئے،اس کے باوجود نتائج کو نہ ماننا سمجھ سے بالاتر ہے ہم نے ہر طریقہ سے دونوں فریقین کو مطمئن کیا،اسی طرح وارڈ نمبر چار سے مسلم لیگ ن کے شفاقت محمود بٹ بھی بدستور کامیاب قرار پائے انکے ووٹوں کی تعداد میں بھی کسی قسم کا اضافہ یا مسترد ہونے کا عنصر نہ پایا گیا، یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے امیدوار نے پی ٹی آئی کے امیدوار خورشید اختر کو چار ووٹوں سے شکست دی تھی ،ٹی ایم اے آفس میں صبح سے ہی لوگوں کا جم غفیر اکٹھا تھا ، سیکورٹی خدشات کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری طلب کر لی گئی تھی جبکہ ٹی ایم اے آفس کی بالائی منزل پر بھی پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا،تاہم کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہ آیا،تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے نتائج کو نہ ماننے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ اسے الیکشن ٹریبونل میں لیکر جائیں گے ،پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ مشاورت کے بعد پوری پلاننگ سے دوبارہ گنتی کے لئے ٹی ایم اے آفس آئی تھی ۔پی ٹی آئی کی کیا حکمت عملی ہے اور وہ عوام میں کیا تاثر دینا چاہتی ہے وقت کے ساتھ ساتھ سب سامنے آجائے گا،تاہم دوبارہ گنتی کی شفافیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ، ریٹرننگ آفیسر نے حتی الوسع کوشش کی کہ وہ انھیں مطمعن کر سکیں مگر پی ٹی آئی میں نہ
مانو ں کی پالیسی پر کاربند رہی،
ٹیکسلا : بلدیاتی انتخابات ، مخلتف وارڈز اور یونین کونسلز کے نتائج چلینج !!! ، ری کونٹینگ ہوئی دوبارہ کون جیتا ، جانیئے اس رپورٹ میں۔
Reviewed by SKY IRAQ
on
23:40:00
Rating:
Reviewed by SKY IRAQ
on
23:40:00
Rating:

No comments: