یونین کونسل نجف پور کے علاقہ دھیناں کے مسائل ۔علاقہ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک مسائل کا شکار علاقہ کی عوام کو مسیحاء کی تلاش ۔
یونین کونسل نجف پور کے علاقہ دھیناں کے مسائل ۔علاقہ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک مسائل کا شکار علاقہ کی عوام کو مسیحاء کی تلاش ۔
قیام پاکستان سے لے کر اب تک خانپورکا علاقہ دھیناں پسماندگی کا شکار علاقہ مکین مردو خواتین راستہ نہ ہونے کےباعث ندی پار کرکے آج بھی اپنے گھروں کو جاتے ہی
پینے کے پانی کیلئے سکیم 1986میں اس وقت کے ممبر ڈسٹرک کونسل ایبٹ آباد سید بیدار حسین شاہ نے دی تھی جو کہ اب خستہ حالی کا شکار ہو چکی ہے ۔گزشتہ ماہ ہونے والے زلزلہ کے باعث علاقہ میں کئی رہائشی مکان گر گئے مگر علاقہ مکینوں کو حکومتی امداد نہ مل سکی ۔کسی بھی علاقہ کی ترقی کیلئے سٹرکیں بڑی اہم ہوتی ہیں ہمارے علاقہ میں قیام پاکستان کے بعد اب تک کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا متاثرین ِ علاقہ ۔
خانپور کے ایک سو آٹھ دیہات میں سے 70سے زاہد دیہات خانپور کے دورفتادہ پہاڑی علاقوں میں واقع ہیں جن میں بسنے والے لاکھوں افراد آج کے اس جدید دور میں بھی پچاس کی دہائی کے لوگوں کی طرح اپنی زندگی گزانے پر مجبور ہیں نامناسب سفری سہولیات کے باعث ان علاقوں میں اگر آج بھی کوئی بیمار ہوجائے تو اسے چارپائی پر لاد کر گھنٹوں پیدل سفر طے کر کے ٹیکسلا ۔ہریپور اور اسلام آباد کی ہسپتالوں میں علاج کیلئے لایا جاتا ہے ان ہی علاقوں میں ایک علاقہ ہے دھیناں جہاں پر سالوں سے آباد لوگ آج بھی مسیحاء کے منتظر ہیں اس علاقہ میں تین سو گھر آباد ہیں علاقہ کی آدھی آبادی ندی کے ایک جانب واقع ہے اور آدھی ندی کے دوسری جانب علاقہ میں 1986میں ایک واٹر سپلائی کیلئے ٹینک تعمیر کیا گیا اور ایک بچیوں کیلئے پرائمری سکول کی تعمیر کی گئی اس کے علاوہ اس علاقہ میں آج تک کوئی ترقیاتی کام نہ ہو سکا علاقہ کے مکین آج بھی اپنے بیمار ہونے والوں کو کندھے پر لاد کر ندی کراس کرنے کے بعد کسی ہسپتال لاتے ہیں خانپور کی رپورٹینگ ٹیم نے جب اس علاقہ کا دورہ کیا اور یہاں پر بسنے والے افراد کے مسائل کو سنے تو بے ساختہ آنکھوں میں آنسو آگئے کہ جہاں اس جدید دور میں سائنس کہاں سے کہاں پہنچ گئی مگر اس علاقہ کے لوگ آج بھی لالٹین استعمال کر رہے ہیںایک 85سالہ ایک بوڑھی اماں کو جو جب اس بات کا پتہ چلا کے کوئی اس علاقہ میں ان کے مسائل کو سننے کیلئے آیا تو وہ بھی اپنی لاٹھی لے کر ملنے چلی آئی بوڑھی اماں کا کہنا تھا کہ اس کا اس پانی سے گزاتے سالوں گزار گئے مگر کبھی اس نے اس علاقہ میں ترقی کا کوئی کام نہیں دیکھا گزشتہ ماہ ہونے والے زلزلہ سے علاقہ کے کئی مکان گرگئے اور کئی مکانوں کی دیواریں بھی مکمل گر چکی ہیں ان مکانوں میں رہنے والے افراد آج بھی حکومتی امداد کے منتظر ہیں جو کچھ مکان باقی رہ گئے ہیں ان میں رہنے والے افراد آج بھی خوف کا شکار ہیں ان کا کہنا ہے کہ کوئی مسیحاء آئے اور ان کے مکان خرید لے اور یہ کسی اور جگہ منتقل ہوجاہیں جہاں پر انکو زندگی گزارنے کیلئے سہولیات دستیاب ہو سکیںدھیناں میں بچیوں کیلئے ایک پرائمری سکول قائم کیا گیا مگر شدید بارش کے باعث یہاں پر بچیاں سکول ہی نہیں آسکتی کیونکہ آنے کا واحد راستہ ندی سے ہو کر آتا ہے جس میں بارشیوں کی وجہ سے پانی زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ راستہ بھی مکمل بند ہو جاتا ہے جہاں سے بچیاں اور ٹیچرز پار ہوتی ہیںاس علاقہ میں بچوں کے لئے سکول ندی کی دوسری جانب ہونے کی وجہ سے بارش کے دونوں میں وہ بھی تعلیم حاصل نہیں کرسکتے علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کے اگر ان کے علاقہ میں ایک پُل تعمیر کیا جائے تو اس سے علاقہ کے مسائل حل ہو سکتے ہیں علاقہ میں پینے کے پانی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے واٹرسپلائی سکیم دی جائے تاکہ علاقہ کی باپردہ خواتین کو پانی بھرنے کیلئے دور دور نہ جانا پڑئے اس علاقہ کے لوگ کھیتی باڑی کے علاوہ سرکاری ملذمین بھی ہیں جن کا کہنا تھا کے بارش کے دونوں میں ندی میں پانی زیادہ ہو جاتا ہے اس لیے وہ بھی اپنے اپنے کاموں پر نہیں جا سکتے جسکے لئے وہ بعد میں مسائل کا شکار بھی رہتے ہیں علاقہ کا مکمل راستہ کئی سالوں سے بارش کی نظر ہو چکا ہے جس کے بعد عارضی راستہ بھی تعمیر نہیں کیا جاسکا علاقہ کی تعلیمی شخصیت بابو خالد کا کہنا ہے کہ اگر حکومت یا سیاسی نمائندے عوام کے مسائل پر توجہ دیں تو ہر علاقہ سے مسائل کا خاتمہ ہو سکتا ہے بابوخالد کا مزید کہنا تھا کہ علاقہ میں ایک پچاس کے۔وی کا ٹرانسفامر لگایا گیا مگر یہاں پر آباد گھروں کی تعداد ایک سو پچاس سے بھی زیادہ ہونے کی وجہ سے علاقہ کے لوگ آج بھی پچاس کی دہائی کے لوگوں کی طرح لالٹین استعمال کر نے پر مجبور ہیں جو کبھی لائٹ آبھی جائے تو وولٹیج کم ہونے کی وجہ سے کوئی کام بھی مکمن نہیں ہو سکتا علاقہ کے دیگر لوگوں کا کہنا تھا کہ اس علاقہ میں بینظیر انکم سپورٹ پروگراکے تحت سروئے بھی کیا گیا مگر تاحال ضرورت مند خواتین کو اس پروگرام سے کوئی مالی مدد دستیاب نا ہو سکی علاقہ کی پسماندگی کا یہ حال ہے کے علاقہ میں کھیتی باڑی کیلئے کرنے والے بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں ہیں کھیتی باڑی کیلئے ٹریکٹر ٹرالی لانا بھی کسی عذاب سے کم نہیں اس علاقہ میں ایک مسجد قائم کی گئی علاقہ مکینوں کا اس مسجد کے بارئے میں کہنا تھا کے اس کی تعمیر پنڈی سے آنے والے دو جیولرز نے کرائی جس میں آج یہ لوگ نماز ادا کرتے ہیں سروئے ٹیم نے یہ بھی دیکھا کہ علاقہ کے خواتین اپنے مکانوں کی مرمت بھی خود کرنے میں مصررف تھی علاقہ کے معززین سخی زمان ۔جمعہ خان ۔ماسٹراشرف۔محمد مسکین۔محمد تنویر۔بشیر۔ملک یعقوب ۔احمددین ۔سروردین اللہ داتہ۔محمددانش۔مظفردین ۔وہ دیگر سے ایم۔این۔اے بابرنواز خان ۔ایم۔پی۔اے راجہ فیصل زمان صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا وہ خدارہ ان کے علاقہ کے مسائل کو حل کرنے کیلئے زبانی دعوئے نہیں بلکہ عملی اقدامات اُٹھائے جائیں تاکہ علاقہ دھیناں کے عوام مسائل کے دلدل سے باہر آسکیں ۔ تحریر : اسد زرگر
پینے کے پانی کیلئے سکیم 1986میں اس وقت کے ممبر ڈسٹرک کونسل ایبٹ آباد سید بیدار حسین شاہ نے دی تھی جو کہ اب خستہ حالی کا شکار ہو چکی ہے ۔گزشتہ ماہ ہونے والے زلزلہ کے باعث علاقہ میں کئی رہائشی مکان گر گئے مگر علاقہ مکینوں کو حکومتی امداد نہ مل سکی ۔کسی بھی علاقہ کی ترقی کیلئے سٹرکیں بڑی اہم ہوتی ہیں ہمارے علاقہ میں قیام پاکستان کے بعد اب تک کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا متاثرین ِ علاقہ ۔
خانپور کے ایک سو آٹھ دیہات میں سے 70سے زاہد دیہات خانپور کے دورفتادہ پہاڑی علاقوں میں واقع ہیں جن میں بسنے والے لاکھوں افراد آج کے اس جدید دور میں بھی پچاس کی دہائی کے لوگوں کی طرح اپنی زندگی گزانے پر مجبور ہیں نامناسب سفری سہولیات کے باعث ان علاقوں میں اگر آج بھی کوئی بیمار ہوجائے تو اسے چارپائی پر لاد کر گھنٹوں پیدل سفر طے کر کے ٹیکسلا ۔ہریپور اور اسلام آباد کی ہسپتالوں میں علاج کیلئے لایا جاتا ہے ان ہی علاقوں میں ایک علاقہ ہے دھیناں جہاں پر سالوں سے آباد لوگ آج بھی مسیحاء کے منتظر ہیں اس علاقہ میں تین سو گھر آباد ہیں علاقہ کی آدھی آبادی ندی کے ایک جانب واقع ہے اور آدھی ندی کے دوسری جانب علاقہ میں 1986میں ایک واٹر سپلائی کیلئے ٹینک تعمیر کیا گیا اور ایک بچیوں کیلئے پرائمری سکول کی تعمیر کی گئی اس کے علاوہ اس علاقہ میں آج تک کوئی ترقیاتی کام نہ ہو سکا علاقہ کے مکین آج بھی اپنے بیمار ہونے والوں کو کندھے پر لاد کر ندی کراس کرنے کے بعد کسی ہسپتال لاتے ہیں خانپور کی رپورٹینگ ٹیم نے جب اس علاقہ کا دورہ کیا اور یہاں پر بسنے والے افراد کے مسائل کو سنے تو بے ساختہ آنکھوں میں آنسو آگئے کہ جہاں اس جدید دور میں سائنس کہاں سے کہاں پہنچ گئی مگر اس علاقہ کے لوگ آج بھی لالٹین استعمال کر رہے ہیںایک 85سالہ ایک بوڑھی اماں کو جو جب اس بات کا پتہ چلا کے کوئی اس علاقہ میں ان کے مسائل کو سننے کیلئے آیا تو وہ بھی اپنی لاٹھی لے کر ملنے چلی آئی بوڑھی اماں کا کہنا تھا کہ اس کا اس پانی سے گزاتے سالوں گزار گئے مگر کبھی اس نے اس علاقہ میں ترقی کا کوئی کام نہیں دیکھا گزشتہ ماہ ہونے والے زلزلہ سے علاقہ کے کئی مکان گرگئے اور کئی مکانوں کی دیواریں بھی مکمل گر چکی ہیں ان مکانوں میں رہنے والے افراد آج بھی حکومتی امداد کے منتظر ہیں جو کچھ مکان باقی رہ گئے ہیں ان میں رہنے والے افراد آج بھی خوف کا شکار ہیں ان کا کہنا ہے کہ کوئی مسیحاء آئے اور ان کے مکان خرید لے اور یہ کسی اور جگہ منتقل ہوجاہیں جہاں پر انکو زندگی گزارنے کیلئے سہولیات دستیاب ہو سکیںدھیناں میں بچیوں کیلئے ایک پرائمری سکول قائم کیا گیا مگر شدید بارش کے باعث یہاں پر بچیاں سکول ہی نہیں آسکتی کیونکہ آنے کا واحد راستہ ندی سے ہو کر آتا ہے جس میں بارشیوں کی وجہ سے پانی زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ راستہ بھی مکمل بند ہو جاتا ہے جہاں سے بچیاں اور ٹیچرز پار ہوتی ہیںاس علاقہ میں بچوں کے لئے سکول ندی کی دوسری جانب ہونے کی وجہ سے بارش کے دونوں میں وہ بھی تعلیم حاصل نہیں کرسکتے علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کے اگر ان کے علاقہ میں ایک پُل تعمیر کیا جائے تو اس سے علاقہ کے مسائل حل ہو سکتے ہیں علاقہ میں پینے کے پانی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے واٹرسپلائی سکیم دی جائے تاکہ علاقہ کی باپردہ خواتین کو پانی بھرنے کیلئے دور دور نہ جانا پڑئے اس علاقہ کے لوگ کھیتی باڑی کے علاوہ سرکاری ملذمین بھی ہیں جن کا کہنا تھا کے بارش کے دونوں میں ندی میں پانی زیادہ ہو جاتا ہے اس لیے وہ بھی اپنے اپنے کاموں پر نہیں جا سکتے جسکے لئے وہ بعد میں مسائل کا شکار بھی رہتے ہیں علاقہ کا مکمل راستہ کئی سالوں سے بارش کی نظر ہو چکا ہے جس کے بعد عارضی راستہ بھی تعمیر نہیں کیا جاسکا علاقہ کی تعلیمی شخصیت بابو خالد کا کہنا ہے کہ اگر حکومت یا سیاسی نمائندے عوام کے مسائل پر توجہ دیں تو ہر علاقہ سے مسائل کا خاتمہ ہو سکتا ہے بابوخالد کا مزید کہنا تھا کہ علاقہ میں ایک پچاس کے۔وی کا ٹرانسفامر لگایا گیا مگر یہاں پر آباد گھروں کی تعداد ایک سو پچاس سے بھی زیادہ ہونے کی وجہ سے علاقہ کے لوگ آج بھی پچاس کی دہائی کے لوگوں کی طرح لالٹین استعمال کر نے پر مجبور ہیں جو کبھی لائٹ آبھی جائے تو وولٹیج کم ہونے کی وجہ سے کوئی کام بھی مکمن نہیں ہو سکتا علاقہ کے دیگر لوگوں کا کہنا تھا کہ اس علاقہ میں بینظیر انکم سپورٹ پروگراکے تحت سروئے بھی کیا گیا مگر تاحال ضرورت مند خواتین کو اس پروگرام سے کوئی مالی مدد دستیاب نا ہو سکی علاقہ کی پسماندگی کا یہ حال ہے کے علاقہ میں کھیتی باڑی کیلئے کرنے والے بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں ہیں کھیتی باڑی کیلئے ٹریکٹر ٹرالی لانا بھی کسی عذاب سے کم نہیں اس علاقہ میں ایک مسجد قائم کی گئی علاقہ مکینوں کا اس مسجد کے بارئے میں کہنا تھا کے اس کی تعمیر پنڈی سے آنے والے دو جیولرز نے کرائی جس میں آج یہ لوگ نماز ادا کرتے ہیں سروئے ٹیم نے یہ بھی دیکھا کہ علاقہ کے خواتین اپنے مکانوں کی مرمت بھی خود کرنے میں مصررف تھی علاقہ کے معززین سخی زمان ۔جمعہ خان ۔ماسٹراشرف۔محمد مسکین۔محمد تنویر۔بشیر۔ملک یعقوب ۔احمددین ۔سروردین اللہ داتہ۔محمددانش۔مظفردین ۔وہ دیگر سے ایم۔این۔اے بابرنواز خان ۔ایم۔پی۔اے راجہ فیصل زمان صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا وہ خدارہ ان کے علاقہ کے مسائل کو حل کرنے کیلئے زبانی دعوئے نہیں بلکہ عملی اقدامات اُٹھائے جائیں تاکہ علاقہ دھیناں کے عوام مسائل کے دلدل سے باہر آسکیں ۔ تحریر : اسد زرگر
یونین کونسل نجف پور کے علاقہ دھیناں کے مسائل ۔علاقہ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک مسائل کا شکار علاقہ کی عوام کو مسیحاء کی تلاش ۔
Reviewed by SKY IRAQ
on
21:57:00
Rating:
Reviewed by SKY IRAQ
on
21:57:00
Rating:


No comments: